ماہرین زراعت نے یورین اور گوبرپرمشتمل کھادکوپودوں کو غذائی اجزاکی فراہمی سمیت زمین کے طبعی و کیمیائی خواص کیلئے اہمیت کا حامل قرار دیا

محکمہ زراعت

فیصل آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ گوبر کی کھاد کا استعمال پودوں کو غذائی اجزاکی فراہمی سمیت زمین کے طبعی و کیمیائی خواص کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے

تاہم گذشتہ کچھ عرصہ سے زرعی تعلیم نہ ہونے کے باعث اس کے استعمال میں کچھ بنیادی خرابیاں پائی جاتی ہیں جس سے فصل اور زمین کو اس کا مکمل فائدہ نہ پہنچ رہا ہے لہٰذا کسانوں، کاشتکاروں، زمینداروں کو چاہیے کہ وہ گوبر کی کھاد سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے اس کا مؤثر استعمال یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایاکہ گوبر کی کھاد یورین اور گوبر پر مشتمل ہوتی ہے۔

انہوں نے بتا یا کہ یورین میں موجودنائٹروجن یوریا کھاد جیسی کیمیائی شکل میں موجود ہوتی ہے تاہم گوبر کے ڈھیر کو کھلی شکل میں چھوڑ دینے کے باعث اس میں سے3ہفتوں کے اندر اندر 90فیصد نائٹروجن ضائع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گوبر کی کھاد جتنی زیادہ گلی سڑی ہو گی اس کے فوائد اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔