محکمہ زراعت، کاشتکاروں کو گندم کی کاشت اور اچھی پیداوارکےلئے راؤنی سے پہلے کھیتوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت

کاشتکاروں کو جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کیلئے چنے و مسور کی بجائے برسیم، لوسرن یا گندم کاشت کرنے کی ہدایت

فیصل آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت اور چھی پیداوار کےلئے راؤنی سے پہلے کھیتوں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کم پانی سے زیادہ رقبے پر راؤنی ہوسکے

، بوائی کاوقت شروع ہو تو سورج نکلنے سے پہلے ہل چلایا اور سہاگہ دیاجائے، یہ عمل دو سے تین مرتبہ دہرانے سے نہ صرف جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی بلکہ زمین کی نیچے والی نمی اوپر آجائے گی جو گندم کی شاندار فصل اور اچھے اگاؤ کی ضامن ثابت ہو سکتی ہے۔

محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہاکہ کاشتکار گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کےلئے کھیت کو اچھی طرح تیار کریں اور وریال زمینوں میں دو یا تین دفعہ وقفے وقفے سے ہل چلائیں اور جہاں کہیں ضرورت ہو کراہ یا لیزر لیولر سے زمین کو ہموار کریں۔

انہوں نے کہاکہ گندم کی کاشت کا موزوں وقت یکم تا 20نومبر ہے اور اس کے بعد کاشتہ گندم میں ہر روز ایک فیصدیعنی 15تا 20کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے پیداوار میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں گندم کی پیداوار 29سے 30من فی ایکڑ ہے مگر جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپناکر اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔