محکمہ زراعت پنجاب نے کپاس کی آف سیزن مینجمنٹ سے متعلق سفارشات جاری کر دیں

ملک کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد سالانہ بنیادوں پر 81.1 فیصد اضافہ
ملک کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد سالانہ بنیادوں پر 81.1 فیصد اضافہ

ملتان۔ 22 نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کپاس کی آف سیزن مینجمنٹ سے متعلق سفارشات جاری کر دیں۔ترجمان محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ کپاس زراعت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصارکپاس کی فصل پر ہے، کپاس کی اچھی اور بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے مختلف عوامل اور مراحل اہم کردار ادا کرتے ہیں، کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کے حملہ کے پیش نظر موسم سرما کے دوران موثر حکمت عملی اپنا کر آئندہ کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ گلابی سنڈی ماہ نومبر،دسمبر میں سرمائی نیند کی حالت میں چلی جاتی ہے اور موسم سرما جڑے ہوئے بیجوں،چھڑیوں پر بچے کھچے ٹینڈوں اور جننگ فیکٹریوں کے کچرے میں خوابیدہ حالت میں گزارتی ہے،

سرمائی نیند سوئی ہوئی سنڈیوں کے پروانے بننے کا انحصار زیادہ تر درجہ حرارت پر ہے، مناسب درجہ حرارت میسر آنے پر پروانے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ کاشتکار موسم سرما کے دوران حکمت عملی اپنا کرآئندہ آنے والی کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں،کپاس کی چنائی مکمل ہونے پر اَن کھلے اورمتاثرہ ٹینڈے اچھی طرح توڑ لیے جائیں بعد ازاں ٹینڈوں کو دھوپ میں پھیلاکر پوری طرح کھلنے کے بعد پھٹی کو الگ کر لیا جائے اور بچے ہوئے مواد کوتلف کر دیں،آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بھیڑبکریاں چرائیں تاکہ کچے ٹینڈے جانوروں کی خوراک بن سکیں اور گلابی سنڈی کے لاروے کا خاتمہ ہو سکے،جن کھیتوں میں کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کا حملہ ہوا ہو وہاں گرے ہوئے ٹینڈے تلف کرنے کے بعد کھیتوں کو روٹاویٹ کر دیاجائے تا کہ بچے ہوئے مواد میں سے موجود سنڈیا ں تلف ہو جائیں۔

ترجمان محکمہ زراعت نے ہدایت کی کہ کپاس کی چھڑیاں کاٹ کر استعمال کر لی جائیں اورڈھیرلگاتے وقت چھوٹے گٹھوں کی حالت میں اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے مڈھ نچلی طرف ہوں تاکہ دھوپ کی وجہ سے ان چھڑیوں میں موجود سنڈیاں اور لارواتلف ہو جائیں،مناسب وقفہ سے چھڑیوں کی ڈھیریوں کو الٹ پلٹ کرتے ر ہیں،کپاس کی چھڑیوں کی کٹائی زمین کی سطح کے برابر یا گہرائی سے کی جائے اور کپاس کے کھیتوں میں گرے ہوئے ٹینڈوں، مڈھوں اور جڑی بوٹیوں کو روٹاویٹر یا مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر زمین میں ملا دیا جائے اور جننگ فیکٹریوں میں موجود ٹینڈے، بیج اور کچرا وغیرہ اکٹھاکر کے تلف کر دیں۔