محکمہ زراعت پنجاب کی بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کو15 اکتوبر سے گندم کاشت کرنے کی ہدایت

Wheat production
Wheat production

لاہور۔13اکتوبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ امسال بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کا موزوں وقت 15 اکتوبر تا 15 نومبر ہے۔کاشتکارگندم فی ایکڑ کی زیادہ پیداوار کیلئے محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام مرکز19،عروج 22 ،بارانی 17،پاکستان 13،فتح جنگ16،ایم اے 21اور نشان 21 کی کاشت کریں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے امسال گندم کی منظور شدہ منتخب اقسام پر 1500 روپے فی بیگ(50 کلوگرام) سبسڈی کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ بارانی علاقوں کے کاشتکار گندم کی بوائی کیلئے40 تا45 کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں جس کے اگائو کی شرح 85 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

بارانی کاشت کیلئے کم بارش والے علاقوں میں راجن پور،لیہ،ڈیرہ غازی خان،مظفرگڑھ،بھکر،میانوالی،جنڈ، پنڈی گھیب اورخوشاب جبکہ درمیانی بارش والے علاقوں میں چکوال، تلہ گنگ اور پنڈدادن خان شامل ہیں۔اس کے علاوہ زیادہ بارش والے علاقوں میں راولپنڈی،اٹک،جہلم،سوہاوہ،ناروال،گجرات اور کھاریاں شامل ہیں۔ بارانی علاقوں کے کاشتکار کاشت سے قبل بیج کو محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ سے پھپھوندی کش زہر ضرور لگا لیں۔

گندم کی کاشت سے قبل عام ہل چلائیں اور سہاگہ دیں تاکہ اگنے والی جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں کے کاشتکار بوائی سے قبل دو مرتبہ عام ہل چلائیں اور بھاری سہاگہ دیں تاکہ وتر زمین کی اوپر والی تہہ میں آجائے اور بذریعہ ڈرل گندم کی کاشت یقینی بنائیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ بارانی گندم کے کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں اور بوائی کے بعد اگر18 تا20 دن کے اندر بارش ہو جائے تو کھیت وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلائیں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی اور وتر بھی دیر تک قائم رہے گا یا فصل کے اگائو کے بعد کھرپے یا کسولے سے خشک گوڈی کر کے فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک کریں۔