محکمہ زراعت کاکاشتکاروں کو گندم کی کاشت فوری مکمل کرنے کا مشورہ،تاخیر کی صورت میں شرح بیج60کلوفی ایکڑ رکھنے کی ہدایت

کاشتکارماش کی منظور شدہ اقسام کی کاشت 15 مارچ تک مکمل کرلیں ، ماہرین زراعت

فیصل آباد ۔ 24 نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت فوری مکمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ گندم کی کاشت کا آئیڈیل وقت 20 نومبر تک ہے تاہم جہاں دھان یا کماد کے کھیت اب خالی ہورہے ہیں وہاں جتنی جلدی ہوسکے گندم کی کاشت کرلی جائے جبکہ گندم کی کاشت کا حتمی وقت 15 دسمبر تک ہوسکتا ہے تاہم اس کیلئے تاخیر کی صورت میں شرح بیج60کلوگرام فی ایکڑ رکھنا ہوگی

نیز گندم کی کاشت میں جتنی تاخیر ہوتی جائے گی اس کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی اتنی ہی کمی آتی جائے گی جس سے جہاں کاشتکاروں کو مالی نقصان کاسامنا کرناپڑسکتاہے وہیں گندم کے پیداواری اہداف بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت فیصل آباد کے مطابق کاشتکار گندم کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں اور پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلائیں نیز جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے جڑی بوٹی ما ر زہروں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ چوڑے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے سفارش کردہ جڑی بوٹی مار زہر کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہواہے۔انہوں نے مزیدبتایا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے سفارش کردہ زہر کا درست مقدار میں بروقت استعمال ضروری ہے جبکہ اس سلسلہ میں محکمہ زراعت کے مقامی عملے سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے گندم کی آبپاشی کے بارے میں بتایاکہ کپاس، مکئی اور کماد کے بعد کاشت کی جانے والی گندم کو پہلا پانی بوائی کے 20سے25دن بعد اور دھان کے بعد کاشتہ گندم کو پہلا پانی بوائی کے 30سے 40دن بعد لگانا ضروری ہے۔