معیشت کو بحالی کی راہ پر ڈال دیا ،بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائیں گے،چیف منیجر سٹیٹ بینک

State Bank of Pakistan

فیصل آباد ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک پاکستان فیصل آباد کے چیف منیجر وقاص کاشف باجوہ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو بحالی کی راہ پر ڈال دیا گیا ہے ، بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کےلئے فیصل آباد چیمبر کی مشاورت سے ٹھوس، قابل عمل اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھا ئیں گے۔وہ فیصل آباد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ڈاکٹر خرم طارق سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کررہے تھے۔اس موقع پر ڈپٹی چیف منیجر قرۃ العین بھی موجود تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ بینکنگ بارے لوگوں کی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جار ہا ہے جبکہ یہاں بینکنگ محتسب بھی کام کر رہا ہے ،تاہم اس ادارے کے بارے میں خاص طور پر صنعتی اور کاروباری شعبے کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلامی بینک دوسرے روایتی بینکوں سے بہت زیادہ منافع کما رہے ہیں ،توقع ہے کہ2027تک جب تمام بینک اسلامی ہوجائیں گے تو پھر مارکیٹ فورسز سے منافعے کی مناسب تقسیم ممکن ہوسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک نے کئی بینکوں کو بھاری جرمانے کئے ہیں اور یہ رقم خیرات کی مد میں جمع بھی کرا دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک اسلامی بینکاری نظام کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور اس حوالے سے شریعہ بورڈ کو بھی مدعو کر سکتے ہیں تاکہ منافعے کے حوالے سے بھی لوگوں کے خدشات کو دور کر سکیں۔ انہوں نے مسائل کے حل کےلئے بزنس کمیونٹی سے رابطے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں چیمبرسب سے ا ہم فورم ہے۔ انہوں نے صدر چیمبر سے کہا کہ وہ کمرشل بینکوں کی طرف سے ایل سی نہ کھولنے کے بارے میں کسی مخصوص کیس کی نشاندہی کریں تاکہ اس شکایت کو ہیڈ آفس بھجوایا جا سکے۔

صدر ڈاکٹر خرم طارق نے معیشت کی مجموعی صورتحال اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر کئے جانے والے اقدامات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سمگلنگ پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، مستقبل قریب میں ادائیگیوں کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈی ایل ٹی ایل کیسوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے نئے بجٹ پر بھی گفتگو شروع ہو رہی ہے جس دوران برآمد کنندگان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری اشیا کی درآمد سے پابندی اٹھا لی گئی ہے ،ایسی پابندیوں سے سمگلنگ بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی حکومتی اقدامات کی وجہ سے 2024 کے پہلے نصف ہاف میں حالات بحال ہوں گے ، دوسرے نصف ہاف میں معیشت کی ترقی ہو گی، تاہم اس کےلئے بنیادی اور کلیدی نوعیت کے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پام آئل کی درآمد پر سالانہ 6سے7ار ب ڈالر خرچ کر رہے ہیں، اس کے متبادل کینولا اور پام آئل کی مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہو گی۔

ا ن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم 70سالوں سے تیل دار فصلوں کی اچھی ورائٹی تیار نہیں کر سکے، ہمارے پاس 1100کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے جس پر پام کاشت کیا جا سکتا ہے ،اسی طرح دالوں کی درآمد پر انحصار کم کرنے کےلئے 3سے4سالوں کے دوران ان کی مقامی پیداوار بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے، ان اقدامات سے آئندہ تین سے چار سالوں میں 7سے8ارب کی بچت اور ٹیکسٹائل برآمدات کی بحالی سے اضافی 5سے6ارب ڈالر ملنے سے ملکی معیشت سنبھل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب ہر شخص پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ہمیں اپنی بقا کےلئے معیشت میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی اور اس مقصد کےلئے اچھی گورننس کے ساتھ ساتھ سختی کی بھی ضرورت ہو گی، تاہم اس میں بھی توازن کو برقرار رکھنا ہوگا۔ صدر چیمبر نے کہا کہ کاٹن کی بہترین فصل ہوئی ہے مگر مناسب قیمت نہ ملنے سے کاشتکار پر یشان ہیں، سرسوں کے نرخ بھی بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن کی اضافی پیداوار سے 3ملین ڈالر کی بچت ہو گی تاہم اس سلسلے میں ہم گزشتہ برس کے تباہ کن سیلاب کو بھول جاتے ہیں۔

انہوں نے حکومت پنجاب کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ اس نے انتہائی متحرک کردار ادا کیا جہاں کپاس کی فصل پر سفید اور سینڈ فلائی کا حملہ ہوا حکومت نے فوری وسیع پیمانے پر سپرے کا بندوبست کیا جس سے پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں سے ساڑھے آٹھ ہزار روپے میں پھٹی خریدنے کا وعدہ کیا گیا مگر اس وقت کھلی منڈی میں اس کی قیمت کم ہے، اس کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے یہ ایک مشکل کام ہے تاہم بالآخر ہمیں قیمت کے تعین کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 24.2ملین ایکڑ رقبہ زیر کاشت ہے جبکہ 9.1ملین ایکڑ سٹیٹ لینڈ کو زیر کاشت لانے کا منصوبہ ہے جس پر کارپوریٹ فارمنگ ہو گی، 1لاکھ ایکڑاراضی ایک گروپ نے جبکہ فیصل آباد کے لوگوں نے بھی 2لاکھ ایکڑ اراضی لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس زمین میں کہیں بجلی نہیں او رکہیں پانی نہیں اِس کو سدھارنے میں 3سال لگیں گے جبکہ اس سے پیداوار میں 15سے30فیصد تک اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام فوڈ سکیورٹی کے تحت اٹھایا جا رہا ہے لیکن اس کے نتیجے میں اجناس کی قیمتیں کم ہوں گی اس لئے ہمیں کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کےلئے اس میں توازن لانا ہوگا۔ صدر ڈاکٹر خرم طارق نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں فارورڈ انٹیگریشن کی صنعتیں لگانے کی تجویز دی ہے جس پر فی الحال غور ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کے حوالے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہم آبادی میں ہونے و الے بے تحاشا اضافے کو نظر انداز کر دیتے ہیں، ہر سال 4.2ملین نفوس کا اضافہ ہو رہا ہے جو کسی بھی سکینڈے نیوین ملک کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے طویل المدتی حکمت عملی کا وقت ختم ہو چکا ہے اب ہمیں فوری یا وسط مدتی حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔فیصل آباد کی صنعتوں کے حوالے سے صدر چیمبر نے بتایا کہ وہ فیسکو چیف سے ملتے ہیں تو بجلی کا لوڈ دیکھ کر انہیں صنعتی شعبے کی صحت کا پتہ چل جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے فیصل آباد میں 1500میگاواٹ بجلی استعمال ہو رہی تھی جو اب کم ہو کر 700میگاواٹ رہ گئی ہے،اگر سولر کی پیداوار کو بھی شامل کر لیں تو یہ فرق بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود 4سے5کروڑ روپے کی لاگت سے سولر سسٹم لگایا مگر اِس کا بجلی کے مجموعی استعمال میں حصہ صرف 0.81فیصد ہے۔ انہو ں نے کہا کہ صرف دن میں بجلی استعمال کرنے والوں کےلئے یہ بہتر ہے لیکن صنعت کےلئے سولر بجلی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر خرم طارق نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی اجازت کے باوجود بعض بینک ایل سی کھولنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں،ایس بی پی کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اسلامی بینکوں کے بارے میں صدر نے کہا کہ مسئلہ صرف حرام حلال کا نہیں نفع کے سلسلے میں بھی اسلام میں ہدایات موجود ہیں مگر اسلامی بینک ان پر توجہ نہیں دے رہے اور خود بھاری منافع کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینک اپنے کھاتہ داروں کو 7فیصد جبکہ دوسرے بینک 14فیصد منافع دے رہے ہیں اس لئے اسلامی بینکوں کے منافع کی شرح کا تعین بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔