ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے تمام مکاتب فکرکے علما ئے کرام کو بھر کردار اداکرنا چاہیے ،وفاقی وزیرمذہبی امورانیق احمد

ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے تمام مکاتب فکرکے علما ئے کرام کو بھر کردار اداکرنا چاہیے ،وفاقی وزیرمذہبی امورانیق احمد
ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے تمام مکاتب فکرکے علما ئے کرام کو بھر کردار اداکرنا چاہیے ،وفاقی وزیرمذہبی امورانیق احمد

کوئٹہ۔2جنوری (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے تمام مکاتب فکرکے علما ئے کرام کو بھر کردار اداکرنا چاہیے ،نگران حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے،دنیا میں قیام امن کیلئے مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے،برداشت اور احترام کا رویہ اسلامی تعلیمات کا لازمی جزو ہے،پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے اسلام کے دیئے ہوئے زریں اصولوں کی آج دنیا کو بے حد ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں بی آر ایس پی کی جانب سے مذہبی ہم آہنگی سے متعلق منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے،بحیثیت قوم بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ہمیں مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، اختلافات کو سمجھ کر مذاہب کے مشترکات کو جمع کر کے آگے بڑھا جا سکتا ہے،اس حوالے سے آقاؐکی زندگی سے رہنمائی لینا ہوگی،آپؐ نے مسیحیوں اور یہودیوں سے مکالمہ فرمایا اور مدینہ کی ایسی ریاست تشکیل دی جس میں تین مرکزی مذاہب کے لوگ آباد تھے اور وہاں امن و سلامتی اور باہمی احترام غالب تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کی کامیابی کی بنیادی وجہ مکالمہ تھا اور حضورؐ کی پوری زندگی مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی کوششوں سے عبارت ہے۔نگران وفاقی وزیر انیق احمدنے کہاکہ سیرت النبیؐ میں عصرِ حاضر کے تمام مسائل کا حل موجود ہے، اعلی اخلاقیات وہی ہیں جو ہمیں اللہ کے رسولؐ نے بیان فرما دیں، سرکار دو عالمؐ نے جو اخلاق حسنہ پیش کئے وہی اخلاقیات کا معیار ہیں ، اگر ہم ان معیارات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔انہوں نے کہاکہ دین اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے، موجود حالات کا تقاضا ہے کہ دنیا میں قیام امن کیلئے مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالموں کا انعقاد کیا جائے،

مختلف مذاہبِ میں ڈائیلاگ کا دروازہ کھولنے کیلئے اسلام کا فلسفہ نہایت حقیقت پسندانہ اور واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پر امن معاشرے کی تشکیل کیلئے تضادات کو سمجھنا نہایت ضروری ہوتا ہے، اختلافات کو سمجھنے کے بعد ہی دوسرے عقائد اور مذاہب سے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اسی طرح مختلف مسالک اور مذاہب کے لوگوں کو آپس میں قریب لایا جا سکتا ہے ۔نگران وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حضورؐ پوری دنیا کے لئے رحمتہ اللعالمین بن کر آئے ،اسلام مکمل دین ہے جہاں تمام مذاہب کے رہنے والے افراد کا احترام کیا جا تا ہے ،حضرت محمدؐ پر ہماری جان اورمال قربان ہو جا ئے ،

ہمیں دین اسلام پر چلتے ہو ئے ملک میں رہنے والے تمام مذاہب کے لو گوں کے ساتھ پیار، محبت اورامن سے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دین میں مسلمان ہو ں یا غیر مسلم ان کے حقوق واضح ہیں،پاکستان میں تمام کمیونٹی ،علماء کرام و دیگر معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ لو گوں کوامن کا پیغام دیں ۔ اس موقع پر رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا خبیر آزاد ،صو بائی و زیر صحت ڈاکٹر قادر بخش بلوچ، صو بائی و زیر داخلہ میر زبیر احمد جمالی ،مولاناانوار الحق حقانی ،مولانا ہاشم موسوی ،مولانا حسب اللہ ،ڈاکٹر قاری عبد الرشید ،،مختیار احمد حبیبی سمیت تمام مذاہب اور مکاتب فکر کے لو گ موجود تھے ۔

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا خبیر آزاد نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کی سیاحت کو بری طرح متاثر کیا تھا تاہم پاک فوج اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے قیام امن کے بعد پورے ملک میں سیاحت کا شعبہ بتدریج فروغ پا رہا ہے،بلو چستان کے لوگ بہادر اور پاکستان سے محبت کر نے والے ہیں،انہوں نے ملک کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

اس موقع صو بائی و زیر داخلہ میر زبیر احمد جمالی نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہیں، ہم نے مل کر پاکستان اور بلو چستان کو مضبوظ بنانا ہے، مستونگ میں عیدمیلادالنبیؐ کے موقع پر خودکش حملے میں 50سے زائد افراد شہید ہو ئے تھے، ان لو گوں کو برین واش کر کے استعمال کیا جا رہا ہے، اسلام اسطرح کے حملوں کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔