ملک کی 24 فیصد آبادی کو ذہنی صحت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے ،ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی کیلئے ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنا ہوگا،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

ملک کی 24 فیصد آبادی کو ذہنی صحت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے ،ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی کیلئے ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنا ہوگا،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لئےقومی سطح پالیسی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی 24 فیصد آبادی کو ذہنی صحت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے ،ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی کیلئے ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنا ہوگا،نفسیاتی مسائل پر قابو پانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ضرورت ہے ۔ وہ
ذہنی صحت سے متعلق اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔اجلاس میں نگران وفاقی وزیر صحت سمیت صوبائی محکموں اور نفسیاتی صحت پر کام کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وزارت قومی صحت کی جانب سے ذہنی صحت کی ایپ “ہمراز” پر روشنی ڈالی گئی ۔

شرکا کو بتایا گیا کہ اپریل 2023 میں قیام سے اب تک 240,000 سے زائد کالز موصول ہو چکی ہیں۔صدر مملکت نے ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی کیلئے ہمراز ایپ کے قیام کو سراہااور ذہنی صحت پر معاونت کا نظام بہتر کرنے اور ہمراز ایپ مؤثر بنانے پر زور دیا ۔ صدر مملکت نے کہا کہ ذہنی صحت پاکستان کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے ، سرکاری اور نجی شعبوں کی مہارت بروئے کار لانے کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، ذہنی صحت سے متعلق تمام اقدامات پر ایک مربوط نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔صدر مملکت نے پیشہ ور افراد کی کمی دور کرنے کیلئے آن لائن تربیت ، انسانی وسائل کی استعداد کار میں اضافے اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔

اجلاس میں نفسیاتی معاونت فراہم کرنے ، مسائل سے نمٹنے میں خاندان کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، امریکہ اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی نفسیاتی تنظیموں سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے مربوط نقطہ نظر کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ۔نگران وفاقی وزیر ِصحت نے صحت کے مختلف مسائل بارے شعور اجاگر کرنے میں صدر عارف علوی اور خاتون اول کے کردار کو سراہا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایوان ِصدر کی قائم کی گئی نظیر برقرار رہے گی ، عمل جاری رکھا جائے گا۔