نگران وفاقی وزیر ڈاکٹر عمر سیف کا نیوٹرل انٹرنیٹ ایکسچینج کو آپریشنل کرنے کی تقریب سے خطاب

Dr. Umar Saif
Dr. Umar Saif

اسلام آباد۔29جنوری (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر عمر سیف نے کہا ہے کہ آج پاکستان ٹیلی کام اور آئی ٹی انڈسٹری کے لیے ایک یادگار دن ہے، جب پی ٹی سی ایل، ایس سی او، پی ٹی اے، ڈی سی آئی ایکس، پیس کیبل اور چائنا موبائل کے تعاون سے کئی اہم سنگ میل عبور کیے گئے ہیں انھوں نے یہ بات پیر کو اسلام آباد میں پی ٹی سی ایل اور ڈی ای-سی آئی ایکس کے تعاون سے پاکستان کے پہلے نیوٹرل انٹرنیٹ ایکسچینج کو آپریشنل کرنے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کہی۔

ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا تھا کہ ہم نے چین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے اپنی انٹرنیٹ ٹریفک کو روٹ کرنا شروع کرے ، پاکستان کو ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کا ایک علاقائی مرکز بنانا ہے، اس سے پاکستان کو انٹرنیٹ ٹرانزٹ ٹریفک کی مد میں بھاری ریونیو حاصل ہوسکتا ہے، اس کے ساتھ ہی اتصالات نے انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے بھروسے کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان میں پہلا کیریئر نیوٹرل آئی ایکس پی اور ڈیٹا سینٹر قائم کیا ہے، پی ٹی سی ایل اس نئے ڈیٹا سینٹر کے آپریشنز کو چلانے کے لیے ڈی ای-سی آئی ایکس جرمن ڈیٹا سینٹر اور آئی ایکس پی آپریٹر کے ساتھ مل کر کام کرے گا، پاکستان میں عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹر آپریٹر کو لانے سے اب ہم دونوں کو سپر سکیلنگ کلائوڈ سروسز جیسے اے ڈبلیو ایس، گوگل کلائوڈ اور آزور کو پاکستان میں لانے اور یوٹیوب، ٹک ٹاک اور نیٹ فلکس جیسے مواد کی خدمات کے لیے مقامی مواد کا مرکز فراہم کرنے کے قابل بنایا جائے گاجس سے پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین اب مقامی طور پر خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور پاکستان علاقائی رابطے کا مرکز بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیرڈاکٹر عمر سیف نے مزید کہا کہ پاکستان ایک بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ ہے جس میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد اٹلی کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے، گزشتہ چند سالوں میں ہم نے فائبر کنیکٹیوٹی کے فروغ میں اہم پیش رفت کی ہے، کاشغر سے راولپنڈی تک دو فائبر لوپ بچھائے گئے اور اس نیٹ ورک کو پی ٹی سی ایل نے کراچی تک وسعت دی ہے۔ مزید برآں کراچی تک آنے والی متعدد سمندری فائبر کیبلز ہمارے رابطے کے نظام کو مزید بہتر بناتی ہیں۔ خوش آئند بات ہے کہ اب پی ٹی سی ایل بزنس سلوشن کے کیریئر نیوٹرل انٹرنیٹ ایکسچینج کا آغاز ہوگیا ہےجس کا انتظام ٹیئر 1 انٹرنیٹ ایکسچینج آپریٹر ، ڈی ای-سی آئی ایکس کر رہا ہے ۔ یہ مرکز یوٹیوب، نیٹ فلکس اور ٹک ٹاک جیسے معروف پلیٹ فارمز سے مواد کی مقامی ہوسٹنگ کے مواقع پیدا کرے گا۔ پاکستان سے یہ مواد باآسانی دیگر مارکیٹوں تک پہنچ سکتا ہے، جس سے ملک خطے میں ڈیجیٹل رابطے کے مرکز کے طور پر ابھرےگا۔ اس ٹرانزٹ ٹریفک کے ذریعے سالانہ 200 سے 400 ملین ڈالر تک کی آمدن پیدا ہوسکتی ہے جس سے ہماری معیشت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

یاد رہے کہ کراچی میں پی ٹی سی ایل کے ڈیٹا سینٹر میں واقع انٹرنیٹ ایکسچینج کو ڈی ای-سی آئی ایکس کے تحت ڈی ای-سی آئی ایکس ایز-اے-سروس (ڈی اے اے ایس) کے طور پر چلایا جائے گا جبکہ اسے ڈی ای-سی آئی ایکس کے ایوارڈ یافتہ انٹر کنکشن انفراسٹرکچر پر تعمیر کیا گیا ہے۔انٹرکنیکشن پلیٹ فارم مقامی پیئرنگ کے ساتھ ساتھ ڈی ای-سی آئی ایکس فرینکفرٹ (جرمنی) تک ریموٹ رسائی فراہم کرتا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ ایکسچینجز میں سے ایک ہے۔ ڈی ای-سی آئی ایکس کے زیر انتظام پی آئی ای علاقائی رابطے کے مرکز کے طور پر خدمات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے جو مقامی نیٹ ورکس کو بلا تاخیر انٹرکنکشن اور عالمی مواد کی لوکلائزیشن کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک کے استحکام، سکیل ایبلٹی اور سکیورٹی میں اضافہ کرتا ہے۔

اس موقع پراپنے خطاب میں گروپ چیف بزنس سلوشنزآفیسر، پی ٹی سی ایل اور یوفون، ضرار حشام خان نے خطِاب کہا کہ ہم ڈی ای-سی آئی ایکس کے ساتھ مل کر پاکستان میں ایک جدید ترین انٹر کنکشن سہولت متعارف کرانے پر بہت خوش ہیں، ہمیں یقین ہے کہ یہ شراکت داری ملک بھر میں لوگوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بھی تیزی لائے گی۔‘‘ڈی ای-سی آئی ایکس کے سی ای او آئیو ایوانوف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو انٹرکنکشن کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایشیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں انٹرنیٹ کا استعمال انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ڈی ای-سی آئی ایکس کے زیرانتظام پاکستان انٹرنیٹ ایکسچینج ملک کے لئے بہترین انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے معاشی امکانات کو کھولنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انٹرنیٹ ایکسچینج قومی نیٹ ورکس کو عالمی معیار کی انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گا اور مزید بین الاقوامی انٹرنیٹ اور کلائوڈ سروس فراہم کنندگان کو پاکستان میں کاروبار کرنے کی طرف راغب کرے گا جس سے ایک متحرک مقامی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے فروغ میں مدد ملے گی۔ اس طرح پاکستان کے لوگ مقامی اور بین الاقوامی معلومات، مواد اور خدمات تک بہترین رسائی حاصل کرسکیں گے۔