نگراں حکومت مکمل غیرجانبدار ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہورہا، نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کانجی ٹی وی کوانٹرویو

احتجاج کرنے والے بلوچ خاندانوں کے معاملے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے،ریاست کی لڑائی بلوچوں سے نہیں بلکہ دہشتگرد تنظیموں سے ہے۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی میڈیا سے گفتگو
احتجاج کرنے والے بلوچ خاندانوں کے معاملے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے،ریاست کی لڑائی بلوچوں سے نہیں بلکہ دہشتگرد تنظیموں سے ہے۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہاہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت متعدد منصوبوں میں قابل ذکر سرمایہ کاری کے لئے الیکشن سے قبل معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے ، آئندہ ہفتوں کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کی جائے گی ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب سمیت دیگر کئی ممالک مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گے ،پاکستان اور کویت میں 7مختلف منصوبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کریں گے ،

نگراں حکومت مکمل غیرجانبدارہے اورکسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہورہا، نگراں حکومت آزادانہ اورشفاف انتخابات کے بروقت انعقاد میں الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرے گی ، پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاسی ریلی یا سرگرمی سے روکا نہیں جارہا، ایس آئی ایف سی پیشہ وارانہ بنیادوں پراٹھایا گیا اقدام ہے، کونسل کی کارکردگی انتہائی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، مسنگ پرسنز کے حوالہ سے پراپیگنڈہ کرنے والے عناصرعالمی اداروں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے تعدادکو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

ہفتہ کوایک نجی ٹی وی کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں انتخابات کے انعقادکیلئے الیکشن کمیشن اپنی تیاریاں کررہاہے، آزادانہ اورشفاف انتخابات کیلئے جہاں جہاں الیکشن کمیشن کو معاونت درکارہو گی نگران حکومت معاونت فراہم کرے گی ، نگران حکومت شفاف اندازمیں اپنی ذمہ داریاں پایہ تکمیل تک پہنچائیگی ، وزیراعظم نے کہاکہ نگراں حکومت مکمل غیرجانبدارہے اورکسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہورہا، پاکستان میں بہت ساری سیاسی جماعتیں ہیں ،

سیاسی جماعتیں ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کرنے کیلئے وکٹم کارڈ بھی استعمال کرتی ہیں ، پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن کے درمیان حالیہ سیاسی بیان بازی کا نگراں حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، ہمارے سب کے ساتھ بہترتعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت آزادانہ اورشفاف انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرے گی ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومت کو مکتوب سے متعلق سوال پروزیراعظم نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا بنیادی کام آزادانہ اورشفاف انتخابات منعقد کرانا ہے جہاں تک انتظامی امورکا تعلق ہے تونگراں حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی،

اس وقت وفاق اورچاروں صوبوں میں نگراں حکومتیں قائم ہیں اوریہ سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں سیاسی جماعتوں کی جائز شکایتیں ہوں وہ دورکی جائیں، الیکشن کمیشن کے مکتوب کو اسی تناظرمیں دیکھنا چاہئیے ۔ الیکشن کمیشن نے انتظامی ردعمل کے حوالہ سے مکتوب لکھا ہے اورجہاں جہاں جس کا مینڈیٹ ہے اسی سطح پرانتظامی ردعمل دیا جائے، اگرچکدرہ میں کسی کو جلسہ کی اجازت نہیں دی گئی تو اس میں ہم مداخلت نہیں کرسکتے کیونکہ اس کیلئے ایک پوری مقامی انتظامی مشینری موجود ہے ۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاسی ریلی یا سرگرمی سے روکا نہیں جارہا، 9 مئی کی توڑپھوڑ اورجلائوگھیرائو میں بعض لوگ جیلوں میں ہیں اوربعض عدالتی عمل کاسامنا کررہے ہیں، ہم اس عمل کو نہیں روک سکتے۔انتخابات کے بعد سیاسی استحکام سے متعلق سوال پرنگراں وزیراعظم نے کہاکہ سیاسی جماعتوں ، میڈیا ، انٹلی جینشیا اورسول سوسائٹی سمیت سب کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام سے جمہوریت، گورننس اورمعیشت پرکیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ وہ قسمت پریقین رکھتے ہیں ، اللہ کی ذات پرتوکل کرکے نیت اگر اچھی رکھی جائے تو اس کے بہتراورمثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ایس آئی ایف سی کے تحت متعدد منصوبوں میں قابل ذکر سرمایہ کاری کے لئے الیکشن سے قبل معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے ، آئندہ ہفتوں کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کی جائے گی ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب سمیت دیگر کئی ممالک مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گے

،پاکستان اور کویت میں 7مختلف منصوبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کریں گے جن میں ماحولیات ، کان کنی اور غذائی تحفظ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے ایک مکمل عمل ہوتا ہے۔نگراں حکومت کے دورمیں بھی مناسب سرمایہ کاری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر 70 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کے حوالے سے غلط فہمیاں پیداکر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نگران حکومت نے ریاست کی معاونت سے ڈالرز اور دیگر مصنوعات پر سمگلنگ پر کامیابی سے قابو پایا ہے اور یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔اسی طرح خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا عمل نگراں حکومت کے بعد بھی جاری رہے گا۔

مفاہمت کی دستاویزات پردستخط ہوں گے اور ایک طریقہ کار کے تحت سارا عمل آگے بڑھے گا۔ قومی زرمبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاری کے حوالہ سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ریاست نے کبھی یہ تاثر نہیں دیا کہ فوری پیسے آجائیں، ایس آئی ایف سی پیشہ وارانہ بنیادوں پراٹھایا گیا اقدام ہے، کونسل کی کارکردگی انتہائی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ قابل استعداد شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور منظوری کے بعد سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جارہا ہے۔ آئندہ ایک دو ماہ میں ملک میں مناسب سرمایہ کاری ہوگی۔

ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طلبی سے متعلق سوال پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ وہ کوپ 28 کے سلسلہ میں بیرون ملک ہوں گے تاہم عدالت کو حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔بلوچستان میں مختلف تنظیموں کی کارروائیوں سے عام آدمی متاثر ہوتے ہیں۔ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے آنے والے دنوں میں مزیداضافہ کا بھی خدشہ ہے مگر ہم اس کو کسی سیاسی عمل کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہتے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں ایسے گروہ سرگرم ہیں جو سکیورٹی فورسز، عوام اوراساتذہ کو قتل کرتے ہیں، ان کے تشدد سے کوئی محفوظ نہیں ، مسنگ پرسنز کے حوالہ سے پراپیگنڈہ کرنے والے عناصرعالمی اداروں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے تعدادکو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے کابینہ کے جیل ٹرائل کے حوالہ سے فیصلہ کے بارے میں سوال پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ عدالت کے حکم پر عمل کیا جائے گا، عدالت کی کارروائی کو شفاف بنانے کیلئے حکومت مناسب ماحول فراہم کرتی ہے،

عدلیہ کے حتمی فیصلہ پر عمل کیا جائے گا۔نگراں وزیراعظم نے کہاکہ 8 فروری کے بعد وہ سیاست میں حصہ لینے اور اور اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ سیاسی مستقبل کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، قبل ازیں کئی سیاستدانوں سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ ملاقاتوں کو مخصوص جماعت میں شمولیت سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے، اس وقت میں اپنی ذمہ داری پر متوجہ ہوں اس کے بعد سوچوں گا کہ کسی جماعت میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔