واشنگٹن،کشمیری نژاد امریکی کمیونٹی کا اجتماع، شہید رہنما محمد مقبول بٹ کی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا

Muhammad Maqbool Butt

واشنگٹن۔12فروری (اے پی پی):کشمیری نژاد امریکی کمیونٹی نے معروف کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی 40 ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے سے آزادی حاصل کرنے کے نئے عزم کا اظہار کیا۔

مقررین نے واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں گزشتہ روز ہونے والے ایک بڑے اجتماع میں شہید محمد مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ بھارت نے محمد مقبول بٹ کو تحریک آزادی کشمیر میں کردار ادا کرنے پر 11فروری 1984 میں پھانسی دی تھی۔ اس موقع پر ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے محمد مقبول بٹ کی عظیم جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے لوث اور متاثر کن رہنما تھے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی پھانسی دیئے جانے سے قبل محمد مقبول بٹ نے اپنی وصیت میں لکھا کہ بہت سے مقبول بٹ آئیں گے اور جائیں گے لیکن کشمیر میں آزادی کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے، آج پوری کشمیری قوم ا پنی مادر وطن جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے مقبول بٹ کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔

ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ تہاڑ جیل میں بندجموں و کشمیر لبریشن (جے کے ایل ایف) کے سربراہ محمد یاسین ملک، مقبول بٹ کے ورثے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں جمہوری اصولوں کے لیے یاسین ملک کے عزم کو مغربی دنیا کی طرف سے وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے، یاسین ملک نے پرامن طریقے سے کشمیری عوام کے حقوق کی وکالت کرنے میں بے پناہ جرأت کا مظاہرہ کیا۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے پروفیسر ڈاکٹر امتیاز خان نے کہا کہ مقبول بٹ سیاسی جنگجو تھے جن میں کشمیر کے حوالے سے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے مذموم عزائم کو سمجھنے کی صلاحیت تھی اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ یا دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے کئے گئے وعدے فریب کے سوا کچھ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ نے آزادی کے حصول کے اپنے غیر متزلزل عزم کی وجہ سے ان کی بناوٹی سوچ پڑھی لیکن آزادی کا عزم کمزور نہیں ہو سکا۔ ڈاکٹر امتیاز خان نے کہا کہ مقبول بٹ کی شہادت نے اشفاق مجید، عبدالحمید بٹ، افضل گورو اور یاسین ملک جیسے آزادی پسند رہنمائوں اور کارکنوں کی ایک نئی نسل کو جنم دیا، ان میں سے اکثریت نے قابض افواج کا مقابلہ کیااور مقبول بٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ آزاد کشمیر کے صدر کے مشیر سردار ظریف خان نے کہا کہ مقبول بٹ کی شہادت کے بعد ان کا کشمیریوں کےآزاد اور منصفانہ حق خود ارادیت کا وژن اب بھی زندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ نے بھارتی قبضے سے آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی کیونکہ وہ اس پر پورے خلوص اور ایمانداری کے ساتھ یقین رکھتے تھے۔ کشمیری امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن (کے اے ڈبلیو اے) کے رہنما سردار زبیر خان نے کہا کہ مقبول بٹ لاکھوں کشمیریوں اور انسانی حقوق اور وقار کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے تحریک تھے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے تمام مشکلات کے باوجود اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے کبھی امید نہیں ہاری۔ معروف کمیونٹی رہنما حامد ملک اور دیگر 2 کشمیری کارکنان سردار محمد شاہین اور سردار شکیل انجم نے بھی مقبول بٹ کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں ایک مثالی رہنما قرار دیا۔