وزارت منصوبہ بندی کی زراعت سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے کوششیں تیز

وزارت منصوبہ بندی کی زراعت سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے کوششیں تیز

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):زراعت کے شعبہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ایجنڈے میں سرفہرست شعبہ ہے ،وزارت منصوبہ بندی نے زرعی شعبوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے جلد نفاذ کے لئے کوششیں تیز کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں تاکہ ان منصوبوں کو جلد مکمل کیا جا سکے۔

وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال میں زراعت کے شعبے کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت اربوں روپے مالیت کے کئی منصوبے مختص کیے گئے ہیں تاکہ زرعی شعبے سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔

ان منصوبوں میں کیج کلچر کلسٹر ڈویلپمنٹ کا منصوبہ ، پاکستان میں آلو ٹشو کلچر ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن، صارفین کے ذریعہ بیج کی تصدیق کے نظام کا قیام، جنوبی بلوچستان میں سیڈ سرٹیفیکیشن سروسز کا قیام،قومی تیل کے بیج بڑھانے کا پروگرام، پاکستان کے بارانی علاقوں میں کمانڈ ایریا زبڑھانے کا قومی پروگرام، پاکستان میں آبی گزرگاہوں کی بہتری کے لیے قومی پروگرام، گنے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، گندم کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ جیسے دیگر منصوبے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں زراعت کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں جس کے لیے ایس آئی ایف سی بھرپور اقدامات آٹھا رہی ہے۔

اس حوالہ سے وزارت منصوبہ بندی نے متعلقہ وزارتوں سے کہا ہے کہ وہ زرعی شعبوں سے متعلق منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کریں تاکہ منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایس آئی ایف سی میں زرعی شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔واضح رہے کہ ایس آئی ایف سی کا قیام رواں سال کے شروع میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کیا گیا تھا جس میں پانچ اہم شعبوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

جن میں زراعت، دفاعی پیداوار، کان کنی/معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی جیسے دیگر منصوبے شامل ہیں۔ زرعی شعبہ سے متعلق اہم ترین منصوبوں میں 5000 ملین روپے کے لاگت کا گرین ریوولیوشن 2.0 کا منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ جس کا مقصد زراعت کی پیداواری صلاحیت میں اہم رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت نے کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے، اناج، پھلوں اور سبزیوں کی قدر میں اضافہ، بڑی فصلوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، خواتین اور نوجوانوں کو زراعت، زرعی کاروبار میں شامل کرنے اور زرعی تحقیق کو فروغ دینے اور معاونت کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔پاکستان کی غذائی مصنوعات برآمد کرنے کی صلاحیت سخت بین الاقوامی معیارات کی وجہ سے محدود ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے باغبانی کی فصلوں کی اہم رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے 1000 ملین روپے کا ایک اور منصوبہ ’’ہارٹیکلچر سپورٹ پروگرام‘‘ ہے۔اس منصوبے کو منتخب پھلوں اور سبزیوں کے میدان میں اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ویلیو چین کے ہر قدم پر ویلیو ایڈنگ ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے باغبانی کی ویلیو چینز کو مربوط اور مضبوط کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

پاکستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے لیے 377,017 ملین روپے کا ایک اور منصوبہ جس کے تحت 100,000 ٹیوب ویلوں ک شمسی توانائی پر تبدیل کیا جا رہا ہے جس میں 50,000 ڈیزل اور 50,000 بجلی کے ٹیوب ویلز شامل ہیں۔