وزیراعلیٰ سندھ کا مٹیاری میں چھنڈن موری کا معائنہ، نزدیکی دیہات کا پانی بلا تاخیر چھنڈن موری کے ذریعے دریائے سندھ میں نکاسی کرنے کے احکامات

وزیراعلیٰ سندھ کا ڈاکوؤں سے مقابلے میں پولیس افسران و اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ کا نوٹس ،قاتل ہرصورت میں سلاخوں کے پیچھے چاہئیں، سید مراد علی شاہ

حیدرآباد۔17ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مٹیاری پہنچ کر چھنڈن موری کا معائنہ کیا اور انتظامیہ کو نزدیکی دیہات کا پانی بلا تاخیر چھنڈن موری کے ذریعے دریائے سندھ میں نکاسی کرنے کے احکامات جاری کئے۔

اس موقع پر وزیر روینیو سندہ مخدوم محبوب الزماں، وزیر آبپاشی جام خان شورو، صوبائی مشیر رسول بخش چانڈیو، معاون خصوصی سید قاسم نوید، پیپلز پارٹی ضلعی صدر سید علی حسین شاہ جاموٹ و دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے نیوسعیدآباد کے نزدیک مہران ہائی وے پر مارکھ واہ کے شروعاتی مقام کا جائزہ لیا جہاں سے 4 متاثرہ یونین کونسلوں کے زیر آب سینکڑوں دیہات سے پانی روہڑی کینال میں چھوڑا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے زیرآب آنے والے علاقوں سے بلاتاخیر نکاسی آب یقینی بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مہران ہائی وے ٹینٹ سٹی کے متاثرین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے، انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے متاثرین کے کھانے پینے، راشن، ٹینٹ اور طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق استفسار کیا، جس پر ڈپٹی کمشنر محمد عدنان رشید نے بتایا کہ متاثرین کی بھرپور دیکھ بھال کے لئے انتظامیہ کوششیں کررہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سے گاؤں ملوک خاصخیلی کے متاثرین نے جلد علاقے سے پانی نکالنے کا مطالبہ کیا، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ پانی نکالنے کا بندوبست کرنے آئے ہیں، انتظامیہ کی طرف سے اگر راشن نہیں مل رہا تو آگاہ کیا جائے، آپ کو راشن کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ٹینٹ سٹی میں قائم ٹینٹ مدرسہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ملاقات کی اور انہیں پیار کیا اور دعا بھی کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مولوی صاحب کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خیمہ بستی میں بھی کلام پاک کی تعلیم جاری رکھی ہے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 8 سے 10 اضلاع کا دورہ کرچکا ہوں جس کا مقصد سیلاب اور بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا ہے، سعیدآباد تحصیل میں پانی جمع ہے جس کی نکاسی کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کا پانی پرانے مارکھ واہ سے نکالنے کا پلان تشکیل دیا ہے جوکہ پانی کی پرانی گذرگاہ ہے۔ ڈپٹی کمشنر مٹیاری اور محکمہ آبپاشی کو جلد سے جلد مارکھ واہ کی کھدائی کرکے مشینوں کے ذریعے پانی نکالنے کے احکامات دیئے ہیں۔

ایک سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ آبادگار گندم اور ربیع کی فصل کاشت کریں تاکہ 8 مہینے کے دوران جو نقصان ہوا ہے اس کے بعد ان کو فائدہ ہوسکے، زمینوں سے پانی نکالنا اور آبپاشی نیٹ ورک فعال کرنا بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، ہم کاشتکاروں کو مالی مدد فراہم کریں گے جو بیج کی فراہمی، کھاد یا ڈیزل کی فراہمی کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ایم این ایز، ایم پی ایزدیگر تنظیموں کے ہمراہ امدادی سرگرمیوں کی سربراہی کررہے ہیں، ہمیں 15 لاکھ خیموں کی ضرورت تھی جبکہ ہمارے پاس صرف ساڑھے چار لاکھ خیمے ہیں جو بالکل کم ہیں، ہم نے پوری دنیا کو مدد کی اپیل کی ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی ترقیاتی ممالک کے باعث ہوئی ہے جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں اس لئے ان ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہماری مدد کریں۔

عوامی شکایت سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ماضی میں کبھی نہیں آئی اس سے قبل بارشوں سے صرف 4 سے 5 اضلاع متاثر ہوتے تھے، اس بار 24 اضلاع سخت متاثر ہوئے ہیں، ہم لوگوں کے درمیان موجود ہیں اور ان کی شکایات کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھارہے ہیں، مٹیاری ضلع کا یہ میرا دوسرا دورہ ہے، میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں،

ڈینگی کی روک تھام کے لئے ادویات فراہم کی جارہی ہیں اور اس کے لئے الگ وارڈ بھی قائم کیا جارہا ہے، نہ صرف ڈینگی بلکہ ڈائریا، گیسٹرو و دیگر امراض کا بھی سامنہ ہے، ہمیں کچھ وقت لگے گا لیکن عوام کے تمام مسائل حل کرینگے۔ ایک سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آٹے کا بحران جلد ختم ہوجائے گا، مجھے بتایا گیا ہے کہ 20 اکتوبر تک گندم ریلیز کی جائے گی جس کے بعد قیمتیں مستحکم ہوجائیں گی۔