وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین سے ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات

وزیراعظم کی ہدایت پر تعلیمی اداروں میں ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کیلئے عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کریں گے، رانا تنویر حسین

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان خاص طور پر بچوں اور طلباء میں غذائیت کی کمی اور سٹنٹنگ کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے ۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو ورلڈ فوڈ پروگرام ( ڈبلیو ایف پی )کے کنٹری ڈائریکٹر کرس کائے سے ملاقات میں کہی۔ ملاقات میں وزارت ایف ای اینڈ پی ٹی کے سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری نے شرکت کی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر کرس کائے کا آمد پر استقبال کیا ۔وفاقی وزیر رانا تنویر نے ڈبلیو ایف پی کی جانب سے پاکستان میں کیے جانے والے کام کو سراہا۔

انہوں نے خواتین اور بچوں میں غذائیت سے متعلق متعدد سماجی مسائل کو حل کرنے میں پاکستان کو فعال بنانے میں ڈبلیو ایف پی کی معاونت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان خاص طور پر بچوں اور طلباء میں غذائیت کی کمی اور سٹنٹنگ کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے سکول سے باہر بچوں کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 22 ملین بچے سکول سے باہر ہیں جن کی اصلاح حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار داخلہ لینے والے طلبا کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ طلباءکی مجموعی سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے خصوصی پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر کو سکول میلز پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ رانا تنویر کو بتایا گیا کہ اس پروگرام کا مقصد مناسب غذائیت فراہم کرنا اور طلباء بالخصوص نوجوان لڑکیوں کی حاضری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ طلبا کی ذہنی اور جسمانی نشوونما انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی علاقے میں سکول میلز پروگرام کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اس ضمن میں کسی بھی ایسے تعاون کا خیرمقدم کرے گی جس سے ایسے صحت مند طلباءحاصل ہو سکتے ہیں جو علم حاصل کرنے اور سیکھنے کے لئے تیار ہوں ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک کے لئے بڑے پیمانے پر اسکول اور راشن پروگرام تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی اور وزارت ایف ای اور پی ٹی کو مل کر ایک تجویز تیار کرنی چاہئے جسے وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کی سربراہی میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس میں پیش کرکے اس پر غور کیا جائے گا۔

رانا تنویر نے اس بات پر زور دیا کہ کھانا اور راشن پروگرام سکول کے بچوں کے مسائل میں کمی کا باعث بنے گا۔رانا تنویر نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے ایک ایسا ڈیٹا بیس بنایا جائے جو پاکستان کی ہر تحصیل میں طلباء کے بارے میں حقیقی صورتحال پیش کرے تاکہ موثر مداخلتیں تیار کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سیکھنے کا تجربہ اور ڈبلیو ایف پی کی تکنیکی مہارت اس مقصد میں بہت زیادہ حصہ ڈال سکتی ہے۔

رانا تنویر نے کہا کہ طلباء اس ملک کا مستقبل ہیں اور ہم نے ان کی جسمانی اور ذہنی ضروریات کو اولین ترجیح دی ہے۔ آخر میں انہوں نے پاکستان میں سماجی مسائل کے حل کے لئے کرس کائے اور ڈبلیو ایف پی کا شکریہ ادا کیا اور عوامی تعلیمی نظام کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ایف پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔