وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک لاکھ 20ہزار میٹرک ٹن گندم 399.50 ڈالر فی میٹرک ٹن کے حساب سے درآمد کرنے کی تجویز پیش کی ہے، ای سی سی نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ روس سے 390 ڈالر فی میٹرک ٹن گندم درآمد کی جائے ورنہ ٹینڈر منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے ۔کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بجلی خرم دستگیر خان، طارق فاطمی ، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق مسعود ملک، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے حکومتی افادیت ڈاکٹر محمد جہانزیب خان، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے معیشت بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے روس سے جی ٹو جی کی بنیاد پر گندم کی فراہمی کی سمری پیش کی۔ بتایا گیا کہ 28 مئی 2022 کو 3 ایم ایم ٹی گندم کی درآمد کے لیے وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلے کی توثیق کی، ٹی سی پی نے جی ٹو جی کی بنیاد پر روس سے گندم کی درآمد کا عمل شروع کیا۔

اس تناظر میں روسی ایس او ای اور ٹی سی پی کے درمیان 8جون2022 کو ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ ابتدائی طور پر روس کی حکومت نے گندم کی قیمت 410ڈالر فی میٹرک ٹن پیش کی۔ درآمدی گندم کی قیمت کے معاملے پر روسی سفارت خانے کے ساتھ بات چیت کے لیے وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

دریں اثنا، روسی وفد نے وزیر تجارت سے ملاقات کی اور گندم کی قیمت میں 405 ڈالر فی میٹرک ٹن تک کمی کی پیشکش کی۔ بعد میں قیمت مزید کم کر کے 400 ڈالر فی میٹرک ٹن کر دی گئی۔ وزارت تجارت کی تجویز پر وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے روس کی سرکاری کمپنی میسرز پروڈنٹورگ کی جانب سے 399.50 ڈالر فی میٹرک ٹن کی قیمت پر ایک لاکھ بیس ہزار مٹرک ٹن گندم کی خریداری کے لئے جی ٹو جی کی بنیاد پر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کیلئے سمری پیش کر دی ہے۔

ای سی سی کے اجلاس میں دیکھا گیا کہ گندم کی قیمت میں کمی کا رجحان ہے جو آنے والے دنوں میں مزید کم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ روسی فریق کو 390 امریکی ڈالر کی قیمت کی پیشکش کی جا سکتی ہے اور اگر وہ پیشکش قبول نہیں کرتے ہیں تو ٹینڈر منسوخ کیا جا سکتا ہے۔