وفاقی وزیرعابد حسین بھیو کی زیر صدارت پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کا اجلاس

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیروچیئرمین نجکاری کمیشن عابد حسین بھیو نے پیر کو نجکاری کمیشن (پی سی ) کے 204ویں بورڈ اجلاس کی صدارت کی۔ وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر ارم اے خان، بورڈ ممبران اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔پی سی بورڈ کو پاکستان سٹیل ملز (پی ایس ایم سی ) کی موجودہ صورتحال اور اس کی بحالی سے متعلق کچھ حل طلب معاملات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

بورڈ نے ان رکاوٹوں پر غور کیا اور تجویز پیش کی کہ ان معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے جس میں وفاقی حکومت کے تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔بورڈ کو ہائوس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل ) کی نجکاری کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی کیونکہ نجکاری کمیشن مالیاتی مشیروں کے ساتھ اس ادارے کی مارکیٹنگ میں مصروف ہے اس ضمن میں اظہار دلچسپی کی نئے سرے سے تشہیر کا فیصلہ ٹرانزیکشن کو مزید مسابقتی اور شفاف بنانے کے لئے کیا گیاہے ۔

کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی ) نے 2019 میں پاک ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے ( پی آر سی ایل) کے 20 فیصد حکومتی حصص کو سیکنڈری پبلک آفرنگ کے ذریعے تقسیم کرنے کی منظوری دی تھی۔ پی آر سی ایل کے 20 فیصد حصص کی تقسیم کے بعد بھی جی او پی کے اکثریتی شیئر ہولڈنگ کو برقرار رکھنے سے متعلق مختلف اسٹیک ہولڈرز (ایم او سی، پی سی، ایس ای سی پی، ایس ایل آئی سی) کے درمیان اتفاق رائے کی عدم موجودگی کی وجہ سے معاملہ معطل رہا۔

بورڈ نے متفقہ طور پر اس بات کی توثیق کی کہ پی آر سی ایل میں حکومت پاکستان کی اکثریتی شیئر ہولڈنگ کو برقرار رکھنے کے لیے، وفاقی حکومت کو کمپنی میں اپنی اکثریت کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس لیے اس تجویز کو آگے بڑھانے کے لئے سی سی او پی کے آنے والے اجلاس سے پہلے رکھا جائے۔پی سی بورڈ سے سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ (ایس ای ایل) اور پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پی ای سی او) کے مختلف مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی کے بارے میں منظوری طلب کی گئی جنہوں نے ان کی نجکاری کو روک دیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ای ایل کے بورڈ کی تشکیل اور مستقل ایم ڈی کی تقرری اس کی نجکاری کے حوالے سے ضروری فیصلوں پر عمل درآمد کے قابل بنائے گی۔ بورڈ ممبران نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے کو کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے سامنے اس کے آئندہ اجلاس میں رکھا جا سکتا ہے۔بورڈ کو پی ایس ایم اور ایچ بی ایف سی ایل، این پی پی ایم سی ایل اور جے سی سی سمیت ایس اور ایز کی نجکاری میں مجموعی پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

وفاقی وزیرو چیئرمین نجکاری عابد حسین بھایو نے اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کا جاری پروگرام اور اس میں شامل لین دین متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کی مضبوط ہم آہنگی سے کامیاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہم شراکت داروں کے درمیان مضبوط رابطے اور تعاون کا نظام نہیں بنائیں گے، نجکاری کے منصوبہ میں تیزی نہیں آئے گی۔