وفاقی ٹیکس محتسب نے ایک سال کے دوران ریکارڈ 8129 شکایت کا ازالہ کیا ، مہر کاشف یونس

وفاقی ٹیکس محتسب نے ایک سال کے دوران ریکارڈ 8129 شکایت کا ازالہ کیا ، مہر کاشف یونس
پاکستان اور کرغزستان کی باہمی تجارت اور تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا، تاجر رہنما مہر کاشف یونس

لاہور۔31جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایف بی آر اور ٹیکس وصولیوں میں بدانتظامی کے خلاف ریکارڈ 8129 شکایت کا ازالہ کیا اور ٹیکس دہندگان کو 17.74 ارب روپے کے ریفنڈز دلوائے۔

ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں کرغزستان ٹریڈ ہائوس میں تاجر برادری کے ساتھ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ زیر جائزہ مدت کے دوران ایف ٹی او کے فیصلوں پر عمل درآمد کا تناسب بھی 73 فیصد سے بڑھ کر 94 فیصد ہو گیا ہے۔

ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے اور ان کی جائز شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے ایف ٹی او نے ملک بھر کے تمام بڑے کاروباری شہروں میں اپنے نیٹ ورک کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا ہے اور مشیروں کی تقرری کی ہے جو شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف ٹی او آرڈیننس 2000 کے مطابق تمام شکایات کا فیصلہ 45 دن کے اندر ہونا ضروری ہے لیکن ایف ٹی او کی گڈ گورننس کے نتیجے میں یہ مدت کم ہو کر 34 دن پر آ گئی ہے جو ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا ایک اور اعزاز ہے۔

صدر مملکت نے، جو اپیلنٹ اتھارٹی ہیں، ایف ٹی او کے 98 فیصد فیصلوں کو برقرار رکھا ہے اور یہ ایف ٹی او کی طرف سے ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بہترین کارکردگی کا مظہر ہے۔ مہر کاشف یونس نے بہترین سی ای او ایوارڈ حاصل کرنے والی محترمہ ماہین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مکمل ایڈریس، قومی شناختی کارڈ نمبر اور رابطہ نمبر کے ساتھ تحریری شکایات ای میل، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹیلی فون، ٹیلی گرام یا ذاتی طور پر قریبی ایڈوائزر آفس میں درج کرائی جا سکتی ہیں اور اس کیلئے وکلا کی خدمات کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی شکایات کا یقینی طور ازالہ کیا جائے گا اور ایف بی آر کو غفلت برتنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے ایف ٹی او پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور دوسری طرف ایف ٹی او نے ٹیکس دہندگان سے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ریاست کے معاملات کو احسن طریقے سے چلانے میں مدد کے لیے اپنے واجب الادا ٹیکس بروقت ادا کریں۔