پارٹی عہدے سے ہٹانے کی بات مضحکہ خیز ہے ، میں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور دیتا رہوں گا،چوہدری شجاعت حسین

اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):مسلم لیگ (ق) کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ مجھے میری ہی جماعت کے عہدے سے ہٹانے کی بات مضحکہ خیز ہے ،لاہور میں سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس نہیں ملاقاتیوں کے ساتھ فوٹو سیشن کیا گیا، کچھ لوگوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو یرغمال بنایا ہوا ہے ،عمران خان مونس الٰہی کو وزیر نہیں بنانا چاہتے تھے ،میں نے کہا کہ ثبوت کے بغیر کوئی الزام نہیں مانوں گا ، میں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور دیتا رہوں گا۔

غلط بیانی کرکے کوئی بھی شخص عوام میں اعتماد حاصل نہیں کر سکتا، سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر میرے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے ، میرے بیٹوں پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ، میرے اور میرے بیٹوں پر تہمتیں لگانے والے معافی مانگیں جبکہ مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹایا نہیں جا سکتا، 20 سال سے پارٹی کے ساتھ ہوں، سازشوں پر یقین نہیں رکھتا، چوہدری شجاعت نے پرویز الہٰی کو کہا تھا کہ عمران خان کی بجائے میرے امیدوار بنو، پی ٹی آئی چوہدری پرویز الہٰی کو بے شک تاحیات وزیراعلیٰ بنا دے ہم عمران خان کا ساتھ نہیں دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین ، رکن قومی اسمبلی وصدر مسلم لیگ شعبہ خواتین فرخ خان ،شافع حسین ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات غلام مصطفی ملک ،مسلم لیگ سندھ کے صدر طارق حسن ،خیبرپختونخوا سے وجیہ الزمان خان ، گلگت بلتستان کے سینئر نائب صدر دلفراز خان ،بلوچستان سے ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ، مسلم لیگ علماء مشائخ ونگ کے صدر مولانا پیر چراغ الدین شاہ سمیت چاروں صوبوں سے پارٹی عہدیداران، سنٹرل ورکنگ کمیٹی جنرل کونسل کے اراکین اور مختلف ونگز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ میرا ایمان ہے کہ سچ بولوں تاکہ تمام معاملات سب کے سامنے لائوں، سوشل میڈیااور مختلف فورمز پر میرے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، مجھ پر جو الزامات لگائے اس پر سب کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، ہر بات کا الزام سیاستدانوں کو دیا جاتا ہے، غلط بیانی کرکے کوئی بھی شخص عوام میں اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور دیتا رہوں گا، مسلم لیگ (ق) کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتا ہوں، مسلم لیگ (ق) متحد ہے اور متحد رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان اگر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، خاندان میں تقسیم کے معاملہ پر سب کو ہماری فکر ہے، چوہدری وجاہت نے جو بیان دیا تھا اس پر انہوں نے عید کے دن معافی مانگنے کا کہا تھا لیکن معافی نہیں مانگی، جب تک معافی نہیں مانگیں گے معاملات ایسے نہیں چلیں گے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں سب سے پہلے یہ کہنا چاہوں گا سچے وہ لوگ ہیں جن کی تعریف قرآن میں کی گئی ہے ، سچوں کو فائدہ ہوگا اور سچوں کا انجام اچھا ہوگا، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بنو،زبان کا استعمال قرآن شریف میں لکھا ہے اس کے مطابق کریں ،سچ اور زبان کے بارے میں جو قرآن کریم میں کہا گیا ہے ، اس کو ہم اپنی پارٹی آئین کا حصہ بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لاہور آفس میں جو کچھ کہا گیا اس کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ، سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے بارے میں کوئی باقاعدہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو ملاقاتی اور سائلین بیٹھے تھے انہیں ہی ممبر بنا کر اجلاس منعقد کیا گیا۔میرے بارے میں جو کہا گیا اس پر اتنا ہی کہوں گا خدا سے ڈرو۔دیگر تینوں صوبوں کے صدور اور مرکزی عہدیداران میرے ساتھ ہیں ،چوہدری پرویز الٰہی بھی ہماری پارٹی کے صوبائی صدر ہیں ،انہیں چاہئے کہ وہ یہاں آکر بیٹھیں اور اس ساری صورتحال کی وضاحت دیں ۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں اداروں کو برا بھلا کہنے والوں کے ساتھ کبھی بھی ساتھ چلنے کا سوچ نہیں سکتا، ان لوگوں نے غدار،میر جعفرجیسے الفاظ استعمال کئے اور اداروں کو بدنام کرنے کیلئے ایک باقاعدہ مہم شروع کی ہوئی ہے ۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ جنہوں نے میرے اور میرے بچوں پر تہمتیں لگائیں وہ عوامی سطح پر معافی مانگیں ، میری ساری زندگی کی کمائی ایک زبان ہی تو ہے جس کو زبان دی وہ ہمیشہ نبھائی ،مجھے اپنے بیٹوں پر فخر ہے ،وہ میرا ہر فیصلہ قبول کرتے ہیں ،عمران خان کو مونس الٰہی کو وزیر بنانے کا میں نے کہا تھا ، جب ہماری عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مونس الٰہی پر الزامات ہیں ،میں انہیں وزیر نہیں بنا سکتا ، میں نے کہا کہ آپ الزامات کی بات نہ کریں ،اگر ثبو ت ہیں تو دیں ۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اس وقت ہمیں سارے اختلافات بھلا کر ملک کی گرتی ہوئی معیشت کا سوچنا ہوگا ، ڈالر تقریباً250کا ہوگیا ہے ، ملک میں سیاسی سیز فائر ہونی چاہیے اور معیشت کی بحالی کیلئے سیاستدانوں پرزیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہیں آگے بڑھ کر عام آدمی کیلئے اکٹھے بیٹھنا ہوگا، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ معیشت پر نیشنل ڈائیلاگ شروع کرے اور سیاستدانوں کے خلاف کیسز کچھ عرصے کیلئے موخر کر دیں ، معیشت پر اتفاق رائے کیلئے میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کا آغاز کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے میری ہی جماعت کے عہدے سے ہٹانے کی بات نہایت مضحکہ خیز ہے ،لاہور میں سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس نہیں تھا بلکہ ملاقاتیوں کے ساتھ فوٹو سیشن کیا گیا۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کو صدارت سے ہٹانے کی خبروں پر کارکنوں اور عہدیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے، چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے نہیں ہٹایا جا سکتا، پارٹی کے چاروں صوبائی صدور اور گلگت بلتستان کے صدر اور خواتین ونگ کی صدر یہاں پر موجود ہیں، پارٹی کی تمام مرکزی قیادت ہمارے ساتھ ہے، مجھے اگر کوئی آدھی زبان سے بھی کہے تو میں سیکرٹری جنرل کے عہدہ سے الگ ہونے میں عار محسوس نہیں کروں گا،

چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی کی بنیاد رکھی ہے اور 22 سال سے پارٹی چلا رہے ہیں، پنجاب کا کوئی پارٹی عہدیدار کس طرح مجلس عاملہ کا اجلاس بلا سکتا ہے اور اس کی صدارت کر سکتا ہے، اب دو، تین دنوں سے لوگوں کو فون کرکے لاہور بلایا جا رہا ہے، 22 سال سے پارٹی کے ساتھ ہوں، سازشوں پر یقین نہیں رکھتا، چوہدری شجاعت حسین ایک وضع دار شخصیت ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اقدار کی سیاست کی ہے، عمران خان کے ساتھ جب بھی ہماری ملاقات ہوئی وہ کہتے تھے کہ چوہدری سالک کو وزیر بنوا لیں کسی اور کو وزارت نہیں دوں گا، مجھ پر الزام لگانے والوں کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جتنا پنڈورا باکس کھولیں گے اتنے ہی آپ کیلئے مسائل پیدا ہوں گے، 2 نمبر کارروائی سے کام نہیں چلے گا، اپنے خاندان کا مذاق نہ بنوائیں، ہوش کے ناخن لیں، اقتدار آنی جانی چیز ہے، پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران میں عمران خان پر تنقید کرتا رہا اور بار بار چوہدری شجاعت حسین سے کہتا رہا ہوں کہ یہ شخص نالائق اور نااہل ہے، اس کا وزیر نہیں رہنا چاہتا ، انہوں نے کہا کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو نہیں کھلنی چاہئیں، سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی قرار دیا ہے اس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اگر ضرورت محسوس کی تو قانونی کارروائی کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ جب چوہدری پرویز الہٰی کو نائب وزیراعظم بنانے کیلئے بات چیت ہو رہی تھی توچوہدری شجاعت حسین تو تب بھی آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کرتے تھے، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین کے ساتھ ہماری کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں، سیاستدانوں کی ایک دوسرے سے ملاقات معمول کی بات ہے، ہماری دعا ہے کہ چوہدری خاندان اکٹھا ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات میں چوہدری سالک حسین موجود تھے لیکن ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں، ہم اتحادی حکومت کا حصہ ہیں، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے انضمام کا سوال قبل از وقت ہے، چوہدری شجاعت حسین کے حکم پر ہی میں نے وزارت سے استعفیٰ دیا اور عدم اعتماد کی تحریک میں، میں نے اور چوہدری سالک حسین نے انہی کی ہدایت پر ووٹ دیا، چوہدری پرویز الہٰی آج بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں، چوہدری شجاعت نے پرویز الہٰی کو کہا تھا کہ عمران خان کی بجائے میرے امیدوار بنو۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری جو بات کرتے ہیں وہ پوری کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) آج بھی متحد ہے، کسی کو میاں اظہر اگر اچھے لگتے ہیں تو الگ دھڑا بنا کر انہیں صدر بنا لیں، چوہدری پرویز الہٰی دو دفعہ سپیکر، ایک بار نائب وزیراعظم اور ایک بار وزیراعظم بنے،

چوہدری شجاعت حسین نے تو تین ماہ کی وزارت عظمیٰ کے سوا کچھ نہیں لیا، وہ عمران خان جیسے نالائق، نااہل اور بدعنوان شخص کا ساتھ نہیں دینا چاہتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بے شک چوہدری پرویز الہٰی کو تاحیات وزیراعلیٰ بنا دے ہم خوش ہیں لیکن ہم عمران خان کا ساتھ نہیں دیں گے۔