پالیسی سازی میں سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر معیشت کو مضبوط ، شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، مہر کاشف یونس

Kashif Yunus
Kashif Yunus

اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے پالیسی سازی میں سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف معیشت کو مضبوط بلکہ شفافیت کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اتوار کو سٹریٹجک تھنک ٹینک گولڈ رِنگ اکنامک فورم کے زیراہتمام ’اسٹیک ہولڈرز کو پالیسی سازی میں اعتماد میں لینے کے اثرات‘ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ہمارے متنوع سماجی و اقتصادی منظرنامے اور پیچیدہ طرز حکمرانی کے تناظر میں ایک جامع طریق کار کی ضرورت ہے تاکہ حکومت، پبلک سیکٹر، چیمبرز اور منتخب تجارتی اداروں سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کے نقطہ نظر پر غور کیا جا سکے اور جو پالیسی بنائی جائے وہ شفاف اور کاروباری برادری کی ضروریات و مفادات کی عکاس ہو۔ اس سے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو فروغ ملتا ہے، پالیسیوں کی قانونی حیثیت مستحکم ہوتی ہے اور اس کی مزاحمت یا مخالفت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف سٹیک ہولڈرز کی متنوع مہارت، تجربات اور مختلف نقطہ ہائے نظر یکجا ہو کر فیصلہ سازی کے عمل کو تقویت بخشتے ہیں اور زیادہ موثر پالیسیوں کی تخلیق ممکن ہوتی ہے۔ مہر کاشف یونس نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز اتفاق رائے پیدا کرنے اور مجوزہ اقدامات کے لیے حمایت حاصل کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں

جس سے پالیسیوں کے نفاذ میں تعاون اور کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور نتیجتاً مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں اہمیت کا حامل ہے جہاں متنوع ثقافتی، لسانی، سماجی و اقتصادی اختلافات بعض اوقات تنازعات کا باعث بن سکتے ہیں۔