پاکستانی سفارتخانہ قاہرہ کے زیر اہتمام یوم استحصال کے حوالے سے ” کشمیر زیر محاصرہ ” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

قاہرہ ۔5اگست (اے پی پی):مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم استحصال کے حوالے سے ” کشمیر زیر محاصرہ ” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کیا گیا، جنہیں 5 اگست 2019 کو خطے کی خود مختار حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد سے مسلسل فوجی محاصرے کا سامنا ہے۔۔ مقررین کے پینل میں میڈیا، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کی نمائندگی کرنے والے معزین مصرشامل تھے۔

مقررین نے اپنی گفتگو میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جعلی مقابلوں میں معصوم کشمیریوں کے بلا روک ٹوک ماورائے عدالت قتل کی مذمت کی جس کے نتیجے میں 2019 سے اب تک 609 شہادتیں ہوئیں۔ انہوں نے 25مئی 2022 کو ممتاز کشمیری رہنما اور انسانی حقوق کے علمبردار یاسین ملک کی بدنیتی پر مبنی حراست اور سزا کو مسترد کر تے ہوئے بھارتی حکومت کی کشمیر مخالف اور مسلم دشمن پالیسیوں اور اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اورعالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارت کو جوابدہ بنائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل میں سہولت فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ مقررین میں سے ایک مقرر نے عربی زبان میں “اقبال اور کشمیر” پر اپنی نظم سنائی، جس میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو خراج تحسین پیش کیا گیا ، جو کہ ایک کشمیری اور شاعر مشرق ہیں انہوں نے کشمیریوں کا نعرہ لگاتے ہوئے ’’اے کشمیر کے آزادی پسندوں، میں تمہیں سلام پیش کرتا ہوں… میں تمہیں سلام پیش کرتا ہوں‘‘۔

قاہرہ مین پاکستانی سفیر ساجد بلال نے اپنے کلمات میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبو ضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو اجا گر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبو ضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں سنگین انسانی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔سفیر نے مقبوضہ کشمیر کی بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزاد ی تک کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ۔تقریب میں دانشوروں، صحافیوں، طلباء اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔