پاکستان میں تقریبا دس ملین ایکڑ زرعی زمین زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ترین ہے،فیچر

پاکستان میں تقریبا دس ملین ایکڑ زرعی زمین زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ترین ہے،فیچر

پشاور۔ 23 ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں تقریبا دس ملین ایکڑ زرعی زمین زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ترین ہے، یہ اسپین میں زیتون کے زیرِکاشت رقبے سے دو گنا ہے، واضح رہے کہ اسپین دنیا بھر میں زیتون کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ہے،اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اگنے والے جنگلی زیتون سے نکلنے والا تیل انتہائی اعلی معیار کا حامل ہے، اس تیل کی چین، مراکش، تیونس، اسپین اور دیگر ممالک میں بہت زیادہ مانگ بھی ہے۔

زرعی تحقیقی مرکز ترناب فارم پشاور حکام کے مطابق زرعی تحقیقی مرکز ترناب فارم پشاور میں زیتون کے پھلوں سے بیج نکالنے اور سلائس بنانے کے لیے جدید مشینیں نصب کی گئی ہیں جن سے علاقے کے تمام زمیندار استفادہ کر سکتے ہیں، یہ سینٹر چار دہائیوں سے کسانوں کو زیتون سے اچار، مربہ اور دیگر غذائی اشیا بنانے کی تربیت بھی فراہم کررہا ہے،بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث پاکستان کے محض 5 فی صد رقبے پر جنگلات باقی رہ گئے ہیں، یہ تناسب ایکو سسٹم اور ماحول کی حفاظت کے لیے مختص کیے گئے بین الاقوامی معیار سے بہت کم ہے جس کے مطابق کسی ملک کے 23 فی صد رقبے پر جنگلات کا ہونا اشد ضروری ہے،

موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے،اگرچہ ماضی میں شجرکاری کے حوالے سے بڑے منصوبے شروع کئے گئے مگر منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث اس امر کا خیال نہیں رکھا گیا کہ کس علاقے میں کس طرح کے درخت لگانا موزوں رہے گا، اگر آب و ہوا اور ماحول کو مدنظر رکھ کر زیتون اور اسی طرح کے منافع بخش پھلوں کی کاشت کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے تو نہ صرف ملکی معیشت بلکہ ماحول پر اس کے مثبت اثرات کچھ ہی عرصے میں سامنے آسکتے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں سینکڑوں ایسے کسان ہیں جو اپنی گھریلو، معاشی اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیتون کاشت کر رہے ہیں، زیادہ تر کسان جنگلی زیتون میں قلم کاری سے زیتون کی پیداوار بڑھا رہے ہیں۔جنگلی زیتون کیا ہے؟جنگلی زیتون کا درخت خونہ کہلاتا ہے جس کو خیبر پختونخوا کے اکثریتی علاقوں میں خونہ، جنوبی اضلاع میں خن، پنجاب اور کشمیر میں کہو اور بلوچستان میں ہث یا حث کہا جاتا ہے، زرعی تحقیقاتی مرکز ترناب فارم پشاور کے تحقیقاتی آفیسر اور خیبر پختونخوا میں زیتون کے ماہر عبدالمتین کے مطابق زیتون کے مختلف اقسام کے درخت ہیں جن میں سے ایک قسم جنگلی زیتون کی ہے۔

جنگلی زیتون پاکستان کا مقامی اور خودرو درخت ہے، یہ ملک کے چاروں صوبوں، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں یہ بکثرت موجود ہے جس کا ہر علاقے میں الگ مقامی نام ہے۔ جنگلی زیتون کی جڑ اور لکڑی بڑی مضبوط ہوتی ہے اور یہ پاکستان کے ماحولیاتی نظام سے مکمل موافقت رکھتا ہے۔زیتون کے درخت کی عمر لگ بھگ ایک ہزار سال سے زائد بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا میں ایبٹ آباد، شنکیاری، سنگھبٹی اور ترناب فارم پشاور میں بھی کسانوں کے لیے یہ سہولت دستیاب ہے جب کہ چکوال سمیت پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی زیتون کی پیداوار ہو رہی ہے۔

چکوال میں حکومت کا زیتون کا ایک ماڈل فارم بھی ہے، یہاں پر قائم تحقیقاتی مرکز میں زیتون کی مختلف اقسام پر 1991 سے تحقیق کی جا رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پام آئل سے زیتون کے تیل کی کوالٹی کئی گنا بہتر ہوتی ہے کیوں کہ اس کی پراسسنگ کولڈ میتھڈ کے تحت کی جاتی ہے جس سے اس میں موجود انسانی جسم کے لیے مفید اجزا ضائع نہیں ہوتے۔ان کے مطابق پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے ماضی میں پام آئل کی کاشت سے متعلق ملائشیا کی مدد بھی کی مگر اب خود بڑی دولت اس تیل کی درآمد پر خرچ کر رہا ہے،

زیتون کی کاشت کرنے والوں کوایسے آلات بھی مہیا کئے جانے چاہییں جن سے وہ زیتون کے پھل کی محفوظ طریقے سے چنائی کر سکیں کیوں کہ زیتون کا پھل سائزمیں چھوٹا ہوتا ہے،ڈائریکٹرآئوٹ ریچ اینڈ الوو پراجیکٹ ضیا اللہ کے مطابق جس طرح آم کے پودے پر قلم کاری کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جاتے ہیں، اسی طرح جنگلی زیتون پر اچھے زیتون کی سادہ طریقے کے ساتھ قلم کاری کرکے حیرت انگیز نتائج حاصل ہوئے ہیں، اس کا کوئی لمبا چوڑا طریقہ نہیں ہے۔

جنگلی زیتون کے کسی درخت پر کچھ اچھی شاخوں کا انتخاب کر کے ان کو آری سے کاٹ کر چھال پر دو کٹ لگائے جائیں جو بالکل آمنے سامنے ہوں، کاٹے گئے تنے کی موٹائی کے لحاظ سے قلم کا انتخاب کیا جائے، قلم کو تراش کر تنے کی چھال میں پوست کیا جائے، پلاسٹک سے اچھی طرح باندھا جائے، دونوں قلموں کو بھی اچھی طرح پلاسٹک سے ڈھانپ کر باندھ دیا جائے،ا جنگلی زیتون پر قلم کاری کامیاب ہو جائے تو تین سے چار ہفتے میں قلم کی گئی ٹہنیوں پر کونپلیں پھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں جب کہ زیتون کا درخت چار سے پانچ سال میں پھل دینا شروع کر دیتا ہے،

زیتون کے اچھے درخت سے 40 سے 120 کلو زیتون سالانہ حاصل کیا جاتا ہے۔ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ حکا م کے مطابق عالمی ماہرین نے سروے میں بتایاہے کہ باجوڑ زیتون کی کاشت کیلئے اٹلی اور اسپین ہی کی طرح موزوں ہے،باجوڑ میں تقریبا 2لاکھ 50ہزار جنگلی زیتون کی پیوندکاری کی گئی اور 150ایکٹر پر زیتون کے باغات لگائے گئے،باجوڑ سمیت ضم شدہ علاقے زیتون کی کاشت کیلئے انتہائی زرخیز اور سود مند ہیں،یتون دسمبر سے لیکر فروری کے دوران آرام ملنے کے بعد اس پر پھول آجاتاہے اوراس کے پھلنے پھولنے کیلئے ضروری ہے کہ 10سے لیکر منفی2ڈگری سینٹی گریڈ حرارت دستیاب ہو ،قبائلی اضلاع میں جنگلی زیتون کے 3کروڑ 60لاکھ درخت جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر زیتون کے 7کروڑ درخت موجود ہیں جبکہ باقاعدہ کاشت سے زیتون سے سالانہ 14ارب روپے تک آمدن ہوسکتی ہے۔

محکمہ زراعت کے حکام کے مطابق زیتون سے سالانہ 14ارب روپے تک آمدن ہوسکتی ہے، صوبے کے بارانی علاقوں میں 30کروڑ نئے پودے اور خوردنی زیتون کے 40 لاکھ پودے پشاور کے مختلف علاقوں میں لگائے جاسکتے ہیں۔ محکمہ زراعت کے حکام کے مطابق خوردنی زیتون منصوبہ کی کامیابی سے بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔