پاکستان میں ہر سال 2 لاکھ 50 ہزار افراد ٹی بی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، ڈاکٹر ندیم جان

Dr. Nadeem Jan
Dr. Nadeem Jan

اسلام آباد۔21فروری (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر برائے قومی صحت ڈاکٹر ندیم جان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 2 لاکھ 50 ہزار افراد ٹی بی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، پاکستان دنیا بھر میں ٹی بی کیسز کے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی بی ہسپتال کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی بی کا مرض پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے، اس کا علاج اور بچائو ممکن ہے، گلوبل فنڈ کے ساتھ مل کر نئے پروگرام میں 200 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جو ٹی بی، ملیریا، ایچ آئی وی ایڈز جیسی بیماریوں کے علاج معالجہ اور بچائو پر خرچ کی جائے گی، اس کے ساتھ ساتھ 500 ملین ڈالر کی ایک ایپلی کیشن لانچ کر رہے ہیں جس کے ذریعے دور افتادہ علاقوں تک رسائی حاصل اور وہاں کے لوگوں کو علاج معالجہ کی سہولت پہنچائی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط بنا رہے ہیں، ہیپاٹائٹس، ذیابیطس اور پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کیلئے 35.6 بلین روپے کا ایک پروگرام ہم نے شروع کیا تھا جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور جلد اس کو لانچ کر دیا جائے گا تاکہ نئی آنے والی حکومت اس کو آگے لے کر چلے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کے ساتھ مل کر ذیابیطس پر کنٹرول کیلئے 6 بلین روپے کا ایک جامع پروگرام بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کو نئی حکومت کے حوالے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کا ایک بہت بڑا پروگرام 332 ملین ڈالر شروع کیا گیا ہے جس میں ڈونرز کے ساتھ ساتھ صوبوں اور وفاقی حکومت کا تعاون بھی حاصل ہے، وہ لانچ ہو چکا ہے، پرائمری ہیلتھ سسٹم کو مضبوط کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے 70 فیصد بیماریاں ابتدائی سطح پر ختم کی جا سکتی ہیں، اس پروگرام کو مزید بہتر بنانے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی، ڈریپ، فارمیسی کونسل، نرسنگ کونسل میں ریفارمز لانے کا جو عمل ہم نے کیا وہ سب کے سامنے ہے، ڈریپ کے نظام ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے، ادویات سے متعلق شکایات ایپ کے ذریعے درج کرائی جا سکتی ہیں۔