پاکستان نے بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے سی پیک پر مضحکہ خیز ریمارکس کو یکسر مسترد کردیا

Foreign Office Spokesman
Foreign Office Spokesperson

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر مضحکہ خیز ریمارکس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ پاکستان سی پیک کو بھارتی وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان کی طرف سے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کے طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن ریمارکس کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سی پیک ایک تبدیلی کا منصوبہ ہے اور خطے کے لیے استحکام، باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا محور ہے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے علمبردار اور تعاون پر مبنی پاک چین سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے طور پر سی پیک خطے کے لوگوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، سی پیک میں چین کی سرمایہ کاری نے پاکستان کو توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سی پیک پر شکوک و شبہات کی بھارتی کوششیں عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ ایک مذموم ایجنڈے کے حصول کو بھی ظاہر کرتی ہیں جس نے جنوبی ایشیا میں کئی دہائیوں سے سماجی و اقتصادی ترقی کو روک رکھا ہے۔ترجمان نے بھارت کے اس جھوٹے دعوے کو مسترد کیا کہ سی پیک اس کی ”خودمختاری اور علاقائی سالمیت“ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت ریاست جموں و کشمیر پر سات دہائیوں سے غیر قانونی طور پر قابض ہے اور وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں صریح علاقائی اور آبادیاتی تبدیلیوں کو متاثر کرنے میں ملوث ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کرنے اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو چھپانے کی بھارت کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ترجمان نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ کسی ایسے علاقے پر جھوٹے اور بے بنیاد دعووں سے باز رہے جس پر وہ وحشیانہ طاقت کے ذریعے غیر قانونی طور پر قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حق خودارادیت کے استعمال میں مضمر ہے۔