پاکستان کاماحولیاتی آفات کے نقصانات اور ان کے ازالہ کے لئے ”لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ“ کے قیام کا خیرمقدم ، فنڈ کو جلد فعال کرنے پر زور ، فنڈ ماحولیاتی فنانس کے شعبہ میں ایک بڑے خلا کو پر کرنے میں معاون ثابت ہو گا، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان کی اسرائیلی وزیر کے مسجد اقصیٰ کے دورے کی مذمت

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):پاکستان نے ماحولیاتی آفات سے ہونے والے نقصانات اور ان کے ازالہ کے لئے ”لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ“ کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے فنڈ کو جلد از جلد فعال کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ موحولیاتی فنانس کے بڑے خلا کو پر کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شرم الشیخ (مصر) میں کاپ۔27 کا اتفاق رائے سے کیا گیا فیصلہ خاص طور پر گروپ 77 اور چین کے لئے ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک گزشتہ 30 سال سے اس طرح کے فنڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان میں تباہ کن ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے سیلاب کے نتیجہ میں 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا جس نے ماحولیاتی تبدیلی کے اہم مسئلہ پر عالمی توجہ مرکوز کر دی۔ پاکستان نے گروپ 77 اور چین کے سربراہ کی حیثیت سے شرم الشیخ میں کاپ۔ 27 میں فنڈ کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے پہلے اس کو کانفرنس کے ایجنڈے پر رکھا اور پھر ایک متفقہ معاہدہ پر زور دیا۔ ”فنڈ فار لاس اینڈ ڈیمیج“ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ہونے والے ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل اور ان سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے گا۔

یہ ممالک خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے متاثر ہیں۔ پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کو مثالی یکجہتی اور ثابت قدمی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک نے فنڈ کے قیام کیلئے کامیابی سے اپنا کیس پیش کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام کے حوالہ سے صورت حال کی سنگینی اور تیز تر اقدامات کیلئے ترقی یافتہ ممالک کی اس سلسلہ میں سوجھ بوجھ اور تعاون کو بھی سراہتے ہیں۔

پاکستان نے اس تاریخی پیش رفت پر کاپ۔ 27 کی مصری صدارت بالخصوص وزیر خارجہ سامح شوکری کے ساتھ ساتھ یو این ایف سی سی سی کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن اسٹیل کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔ ہم اس امید کے ساتھ فنڈ کے جلد آپریشنل ہونے کے منتظر ہیں کہ یہ فنڈ موسمیاتی فنانس کے شعبہ میں ایک بڑے خلا کو پر کرے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ماحولیاتی سفارت کاری کے ایک حصے کے طور پر پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا سب سے زیادہ سامنا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلی پر بحث مباحثہ، مذاکرات اور عملی اقدامات کے فروغ میں تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔