پاکستان کا سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کل ہونے والی غیر معمولی اسلامی سربراہی کانفرنس کا خیرمقدم

Foreign Office
Foreign Office

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):پاکستان نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کل ہفتہ کو ہونے والی غیر معمولی اسلامی سربراہی کانفرنس کا خیرمقدم کیا ہے۔ او آئی سی کا سربراہ اجلاس غزہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں طلب کیا گیا ہے جس سے شہری آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس نے ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے گھنائونے جرائم پر گہری تشویش ہے کیونکہ اسرائیلی افواج غزہ میں اپنی دہشت گردی اور بربریت کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے غزہ کے عوام بدترین اجتماعی سزا کا شکار ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی افواج معصوم شہریوں کا اندھا دھند قتل عام کرتے ہوئے انہیں خوراک، پانی، رہائش اور طبی امداد سے جان بوجھ کر محروم کر کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاسفورس بموں کا استعمال اور نیوکلیئر ہولوکاسٹ کی دھمکیاں زیر قبضہ لوگوں کے خلاف دی جا رہی ہیں جنہیں ان کی سرزمین سے زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ غزہ میں کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو امن کو برقرار رکھنے اور فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے سمیت فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کے آغاز کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والوں کو اسرائیل کو باور کرانا چاہئے کہ وہ آبادکاری، جبری نقل مکانی اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے اپنے منصوبوں کو ترک کردیں۔

ترجمان نے کہا کہ ایک قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کو چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے اور غزہ میں قتل عام کو فوری طور پر ختم کرنا چاہئے۔