پاکستان کی معیشت 2047 تک تین ٹریلین ڈالرتک بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، سعودی سرمایہ کاروں کے لیے بینکاری اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبے پیش کر یں گے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی واشنگٹن میں ملاقاتوں میں گفتگو

واشنگٹن۔19اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات محمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان کی معیشت 2047 تک تین ٹریلین ڈالرتک بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے،پاکستان سعودی سرمایہ کاروں کے لیے بینکاری اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبے پیش کرے گا، ٹیکسیشن اور پرائمری بیلنس کے معاملات پر صوبوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے ان خیالات کااظہارگزشتہ روزواشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اوربین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے موسم بہارکے سالانہ اجلاس کے موقع پرمختلف ملاقاتوں میں کیا۔ وزیر خزانہ نے سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر سلطان عبدالرحمن المرشد سے ملاقات کی۔ وزیرخزانہ نے انہیں اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب اور اس ہفتے پاکستان آنے والے سعودی وفد کے بارے میں بریفنگ دی۔

وزیرخزانہ نے سعودی ڈولپمنٹ فنڈ کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات میں کراچی سے چمن تک این 25 شاہراہ کی تعمیر اوردیامیر بھاشا ڈیم فنڈنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان سعودی سرمایہ کاروں کے لیے بینکاری اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبے پیش کرے گا۔ وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے زیر اہتمام’’تیز نتائج اور عظیم تر اثرات کیلئے عمل درآمد ‘‘کے موضوع پرگول میز کانفرنس میں شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے عالمی بینک کی قیادت کی سوچ اوروژن کی تعریف کی۔

وزیرخزانہ نے عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس رپورٹ میں پاکستان کے لیے 2047 تک ایک اعلیٰ درمیانی آمدنی والا ملک بننے کا ایک واضح روڈ میپ پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ کہ پاکستان کی معیشت 2047 تک 300 بلین ڈالر تین ٹریلین ڈالر تک بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات خوش آئندہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، ڈیجیٹلائزیشن اور انسانی ترقی کے امورمیں عالمی بینک اورپاکستان کی حکومت کی ترجیحات یکساں ہے۔ وزیرخزانہ نے بینک کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے شروع کیے جانے والے واحد پلیٹ فارم کی تعریف کی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے برطانیہ کے وزیر مملکت برائے ترقی اینڈریو مچل سے ملاقات بھی کی۔وزیرخزانہ نے تعلیم، صحت اور مالیاتی شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان طویل المدتی شراکت داری پرروشنی ڈالی۔انہوں نے برطانوی وزیرکو ملک کے سازگار اقتصادی اشاریوں،ٹیکسیشن اورتوانائی وسرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کے ترجیحی شعبوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔انہوں نے کہاکہ ٹیکسیشن اور پرائمری بیلنس کے معاملات پر صوبوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔

وزیرخزانہ نے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کو پاکستان میں بینک کے قابل منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔وزیرخزانہ نے اگست 2024 میں پاکستان کے دورے کی منصوبہ بندی کرنے پر برطانوی وزیر کا شکریہ ادا کیا۔وزیرخزانہ نے سٹی بینک کے حکام سے ملاقات میں انہیں پاکستان کے مثبت معاشی اشاریوں پر بریفنگ دی ۔انہوں نے کہاکہ سٹاک مارکیٹ میں کاروبارمیں تیزی آرہی ہے جو غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی نشاندہی کررہاہے۔

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے اسٹینڈ بائی معاہدہ کی وجہ سے پاکستان میں کلی معیشت کومستحکم بنانے میں مددملی ہے ۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے کامیابی سے یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی کر دی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک بڑے اور توسیعی پروگرام پر بات چیت کاآغازکردیاہے ۔ وزیرخزانہ نے سٹی بینک کے وفد کو ٹیکس، توانائی شعبہ کے اصلاحات اورسرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے حوالہ سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔