پاکستان کے تمام مسائل کا حل اشرافیہ اور عام لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

President Dr. Arif Alvi
President Dr. Arif Alvi

اسلام آباد، 10 نومبر (اے پی پی)::صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل اشرافیہ اور عام لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اگر خلوص نیت اور ملک کی خدمت کے جذبہ سے ذمہ داری ادا کریں تو اس کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور ملک جلد ہی ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں پر پہنچ سکتا ہے۔

ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو کئی دہائیوں سے بیوروکریسی کو ٹھیک کرنا، اسمگلنگ کو روکنا، امیر لوگوں پر ٹیکس لگانا، برآمدات میں اضافہ، اسکول سے باہر بچوں کے مسائل سے نمٹنا، خواتین کو بااختیار بنانا جیسے چھوٹے مسائل کا سامنا ہے۔ صدر نے کہا کہ ان مسائل کا حل اس لحاظ سے لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ انہیں حقیقی قیادت کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ملک کے عوام کو مشورہ دیا کہ ایک اچھی سیاسی قیادت سامنے لائیں اور ملک کی تقدیر کی ذمہ داری اٹھائیں۔

صدر عارف علوی نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی کہا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مل بیٹھیں اور ملکی مسائل کا حل تلاش کریں۔ انتخابات سے متعلق ایک سوال پر صدر نے کہا کہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ انتخابات طے شدہ تاریخ پر منعقد ہوں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے بات کی ہے کہ ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ انتخابات آزادانہ اور شفاف طریقے سے کرائے جائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن کے حوالے سے موقع دیا جانا چاہیے تاکہ انتخابی نتائج قوم کے لیے قابل قبول ہوں۔

انہوں نے نگران وزیراعظم کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بیان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کئے گئے اقدام کی بھی ستائش کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان کی حکومتوں کی یقین دہانیوں کے باوجود سرحد پار سے دہشت گردی نہیں رک سکی، اس کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوج ان تمام خطرات کا بہادری سے مقابلہ کرتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو برابر کے مواقع فراہم کرنے کی بحث قابل تعریف ہے کیونکہ یہ ماضی کی غلطیوں کا ادراک ہے۔