پاکستان کے کاروباری اداروں کو بر اعظم افریقہ میں دستیاب تجارت و بزنس کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، شہزاد علی ملک

شہزاد علی ملک

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ بر اعظم افریقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور زمین کے کل معدنی ذخائر کا 30 فیصد وہاں موجود ہے اس لئے وہاں دستیاب تجارت و بزنس کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اتوار کو یہاں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افریقہ میں معدنیات کی ایک وسیع رینج موجود ہے جو خاص طور پر توانائی کے شعبہ کے لیے ضروری ہیں ان میں نکل، کوبالٹ، گریفائٹ، لیتھیم اور دیگر نایاب عناصر شامل ہیں۔ پلاٹینم کا تقریباً 80 فیصد، مینگنیز کا نصف اور کوبالٹ کا دو تہائی افریقہ سے آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ براعظم افریقہ میں دنیا بھر کے سونے ذخائر کا 40 فیصد اور کرومیم کا 90 فیصد حصہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وافر وسائل سے مالا مال اور تیزی سے وسعت پذیر افریقی مارکیٹ میں پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے بے مثال اور سنہری مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ اس وقت اہم اقتصادی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے اور اس کے متعدد ممالک نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔

یہ براعظم کی بڑھتی ہوئی آبادی، پھیلتی ہوئی شہری کاری اور تکنیکی ترقی کی بنا پر اشیا اور خدمات کی ایک بڑی اور متحرک مارکیٹ بن رہا ہے۔ پاکستان کے کاروباری اداوں کیلئے افریقہ کی اس مارکیٹ کی طلب، ٹیکنالوجی اور مہارت سے مطابقت رکھنے والی اپنی مصنوعات متعارف کرانے کا یہ بہترین موقع ہے۔

شہزاد علی ملک ستارہ امتیاز نے کہا کہ پاکستان اپنی کاروباری صلاحیت اور اختراعی ٹیکنالوجی اور مہارتوں کے بل پر افریقی مارکیٹ میں بہت زیادہ جگہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت اور صحت سے لے کر ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی تک ہر میدان میں ہم افریقی ممالک کے ساتھ کاروباری اشتراک اور تعاون کر سکتے ہیں جس سے ہمیں خاطر خواہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری کے پاس یہ نادر موقع ہے کہ وہ پائیدار ترقی کو یقینی بناتے ہوئے براعظم افریقہ کی ترقی پر حصہ ڈالیں اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔