25.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںپاک فوج خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور پنجاب میں امدادی سرگرمیوں میں...

پاک فوج خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور پنجاب میں امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کی وفاقی وزیر اطلاعات اور چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ پریس بریفنگ

- Advertisement -

اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر پاک فوج خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور پنجاب میں امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہے، امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اﷲ تارڑ اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر پاک فوج خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان اور پنجاب میں امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہے، پاک فوج کے جوانوں کے علاوہ ایک انجینئر بریگیڈ اور 30 یونٹس فلڈ ریلیف کیلئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان میں ایک انجینئر بریگیڈ، 19 انفنٹری، 7 انجینئرز اور 4 میڈیکل یونٹس شامل ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں آرمی کے 29 میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں، 20788 مریضوں کا اب تک علاج کیا گیا ہے، 28 ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں 225 ٹن راشن تقسیم کیا گیا ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ خراب موسم کے باوجود آرمی ایوی ایشن نے 26 پروازیں کی ہیں، تین بڑے پلوں کو مرمت کرکے بحال کیا گیا ہے، آرمی انجینئرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر 104 شاہراہوں کو بحال کیا ہے، خیبرپختونخوا میں 100 اور گلگت بلتستان میں چار سڑکیں بحالی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں انفنٹری کی 6 یونٹس، دو انجینئرز یونٹ کشتیوں اور دیگر سامان کے ساتھ موجود ہیں، دو میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں، سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر 6 ہزار لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورکنگ بائونڈری اور سرحد پر پاک فوج چوکس ہے، پاک وطن کے دفاع کیلئے کسی سرحدی چوکی کو خالی نہیں کیا گیا، فرض کی ادائیگی کے دوران دو جوان شہید اور دو زخمی ہوئے ہیں، کرتارپور صاحب میں انخلاء کا بڑا آپریشن کیا گیا ہے، پاک فوج کے انجینئرز کی پانچ کشتیوں نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا، قصور اور چونیاں میں چار انفنٹری اور ایک انجینئر یونٹ تعینات ہے، 9 ہزار سے زائد لوگوں اور مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، ریلیف سنٹرز اور کیمپ بھی قائم کئے گئے ہیں، بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چار انفنٹری اور ایک انجینئرنگ یونٹ کو تعینات کیا گیا ہے، ریلیف کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے، ان علاقوں سے جہاں سیلاب کا خطرہ ہے دو ہزار افراد کا انخلاء کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خوارج اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، دہشت گرد موجودہ صورتحال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ قراقرم ہائی وے، جگلوٹ۔سکردو روڈ کھول دی گئی ہیں، پاک فوج کے افسران اور جوان چاہے امن ہو یا جنگ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک فوج اور عوام اکٹھے تھے، اکٹھے ہیں اور اکٹھے رہیں گے اور کوئی باطل قوت اس میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور سول اداروں کے ساتھ مل کر مشکل کی اس گھڑی میں بھرپور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ مون سون بارشوں کا آٹھوں سپیل جاری ہے، اس کے بعد آخری سپیل ہو گا، بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدید بارشیں ہوئیں، گذشتہ رات جموں کے اطراف میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی، وہاں پر بارشوں اور کلائوڈ برسٹ سے شدید نقصان ہوا، سیالکوٹ کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں 600 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں بالا باغ، چشمہ اور تونسہ تک بہائو معمول کے مطابق ہے، دریائے جہلم پر منگلا تک بہائو معمول کے مطابق ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر گذشتہ رات بہائو سات لاکھ کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا، ابھی اس کی شدت ساڑھے 5 لاکھ کیوسک ہے، شمال مشرقی علاقوں میں بارشوں کی شدت میں کمی کے باعث یہاں بہائو میں مزید کمی آئے گی، بھارت سے دریائوں ستلج، چناب اور راوی میں بہائو داخل ہو چکا ہے، خانکی کے مقام پر 10 لاکھ کیوسک کا ریلا ہے، آنے والے دنوں میں قادر آباد کے اوپر دبائو بڑھے گا، قادر آباد میں آرمی انجینئرز اور پی ڈی ایم اے پنجاب کی حدود سے دبائو کم کرنے کیلئے شگاف ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، خانکی اور قادرآباد کے درمیان آئندہ 12 سے 14 گھنٹوں میں بہائو کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، ہیڈ تریموں پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریائے راوی پر جسڑ کے مقام پر 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک کا بہائو ہے جس سے شاہدرہ میں 78 ہزار کیوسک بہائو ہے، اس کی بھرپور مانیٹرنگ کر رہے ہیں، شاہدرہ اور بلوکی میں دبائو بڑھ رہا ہے، ابھی یہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ اور ملحقہ علاقوں میں مزید بارشوں کی توقع ہے جس کی وجہ سے ان دریائوں بالخصوص شاہدرہ بلوکی کے مقام پر دبائو بڑھے گا، دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اڑھائی لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا گزر رہا ہے، 2023ء میں بھی یہاں سے اتنی ہی شدت کا ریلا گزرا تھا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کا مربوط طریقے سے انخلاء کیا گیا تھا، اس وقت گنڈا سنگھ والا پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلمانکی کے مقام پر ایک لاکھ، ہیڈ اسلام پر 50 ہزار سے زائد کیوسک بہائو ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں دریائے ستلج کے قریب رہنے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، پاک فوج، رینجرز، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے پنجاب نے دیگر اداروں سے مل کر اب تک 2 لاکھ 10 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، لوگوں کی محفوظ مقامات تک منتقلی، علاج اور بحالی ترجیح ہے،

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ملٹری فارمیشنز کو ہدایات دی جا چکی ہیں، ان کی ہدایات پر تمام متعلقہ فارمیشنز پی ڈی ایم اے پنجاب سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، ابھی تک کسی فرد کے جاں بحق ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ پنجند پر 58 ہزار کیوسک بہائو ہے، جب ان دریائوں کا بہائو ہیڈ پنجند پر ملے گا تو یہ بہائو 6 لاکھ تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں سندھ حکومت سے مل کر عوام کو ارلی وارننگ نظام کے تحت کوٹری اور گدو پر تمام اعداد و شمار سے پی ڈی ایم اے سندھ کو آگاہ کریں گے تاکہ شہریوں کا بروقت انخلاء یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے پانچ ہزار خیمے پی ڈی ایم اے پنجاب کو پہنچا دیئے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف جلد آفت زدہ علاقوں کا دورہ بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کا نیا سپیل 29 اگست سے 9 ستمبر تک جاری رہے گا، ان علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، متعلقہ علاقوں کے پی ڈی ایم ایز کو آگاہ کیا جا چکا ہے، آزاد جموں و کشمیر اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بارش کا امکان ہے، این ڈی ایم اے کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ الرٹ ایپ پر تمام معلومات دستیاب ہیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں