Election day banner
31 C
Islamabad
اتوار, جون 23, 2024
ہومخصوصی فیچرزپشاور سمیت پاکستان بھر میں پولیو سے بچاؤکا عالمی دن منایا گیا،فیچر...

پشاور سمیت پاکستان بھر میں پولیو سے بچاؤکا عالمی دن منایا گیا،فیچر رپورٹ

پشاور۔ 24 اکتوبر (اے پی پی):پشاور سمیت پورے پاکستان میں پولیو سے بچاؤوکا عالمی دن(24اکتوبر)منایا گیا۔ جون 2022 سے اب تک خیبرپختونخوا میں انسداد پولیو کی کل 14 مختلف مہم چلائی گئی ہیں جبکہ نیشنل ایمیونا ئزیشن مہم کے تحت صوبہ بھر میں تازہ مہم 2 اکتوبر سے شروع کرکے 2مرحلوں میں کا میابی سے مکمل کی گئی۔

پولیوایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخواحکام کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان ان 2 ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو جیسے موذی مرض پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا،دنیا بھر میں پولیو کا خاتمہ ہو گیا تاہم پاکستان میں رواں سال بھی پولیو کے 4 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 3 خیبر پختونخوا اور ایک سندھ میں رپورٹ ہوا۔ پولیوایمرجنسی آپریشن سنٹرخیبرپختونخوا حکام کے مطابق صوبے کے مخصوص جغرافیائی حالات وجہ سے پولیو وائرس کے خاتمے میں کچھ مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومت دیگر شراکت داروں کے تعاون سے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے۔

پولیوایمرجنسی آپریشن سنٹر حکام کے مطابق افغانستان سے پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لئے پانچ بارڈر پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں پر آنے جانے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں جبکہ پشاور کے انوائرنمنٹل سیمپل میں پولیو وائرس کی موجودگی سنجیدہ مسئلہ ہے جسے ختم کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔پولیوایمرجنسی آپریشن سنٹر حکام کے مطابق پولیو قطروں کے بارے میں بعض لوگوں کے ذہنوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے میں علمائے کرام کا کردار سب سے اہم ہے اور اس سلسلے میں علماکے ذریعے لوگوں کو شعور دینے کیلئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے

تاکہ انسداد پولیو پروگرام کو مزید نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔ پولیوایمرجنسی آپریشن سنٹر حکام کے مطابق سال 2014 میں خیبر پختونخواہ میں پولیو کے کل 247 کیسز تھے اور سال 2019 میں صوبے میں پولیو کے 93 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس وقت صوبے میں پولیو کے صرف 3 کیسز رہ گئے ہیں جن کا تعلق بنوں سے ہے جو تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کی مشترکہ اور انتھک کوششوں سے ممکن ہوا ہے تاہم ہماری منزل صوبے سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ہے جس کے لئے کوششیں جاری ہیں۔پولیوایمرجنسی آپریشن سنٹر حکام کے مطابق صوبے میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے محکمہ صحت، سول انتظامیہ، پولیس اور فوج سمیت ڈونر اداروں کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے ہم ان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔نگران وزیر اعلی خیبرپختونخوا اعظم خان کا کہنا ہے کہ نگران صوبائی حکومت پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے تمام شراکت داروں کے کردار کو سراہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کو پولیو فری بنانا ہمارا حتمی ہدف ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ٹھوس اور مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

محمد اعظم خان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو صحت مند اور محفوظ مستقبل دینے کے لیے پولیو کا خاتمہ ناگزیر ہے،حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو یہ باور کرانا ہو گا کہ یہ ان کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، والدین کی اس معاملے میں غیر سنجیدگی بچوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر نشتر ہال میں منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے کہا کہ پولیو ورکرز پولیو کے موذی مرض کے خاتمے کیلئے حقیقی جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے عوام سے گزارش ہے کہ وہ خود پولیو ورکرز کو گھر بلائیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں،پولیو خاتمہ میں خواتین پولیو ورکرز کا کردار قابل تحسین ہے،جس اتحاد سے کورونا کا مقابلہ کیا اسی طرح پولیوکے خاتمہ کیلئے بھی متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں بنائیں کہ صرف اپنے ملک پاکستان نہیں بلکہ افغانستان کو بھی پولیو مرض سے پاک بنائیں، پولیو کو ایک چیلنج سمجھ کر اسکا خاتمہ کرنا ہے۔ گورنر نے تقریب میں ڈی آئی خان، سمیت مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پولیو ورکرز جنہوں نے نامساعد حالات میں فرائض انجام دیئے ان میں نقد انعامات اور تعریفی سرٹیفیکیٹس بھی تقسیم کئے،گورنر نے پولیو ڈیوٹی کے دوران شہید ہونیوالے پولیو ورکرز کے لواحقین میں امدادی رقوم بھی تقسیم کیں،دوسری جانب پاکستان بھر کے11اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اور اب تک 54 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

وزارت صحت نے بتایا ہے کہ بلوچستان، کے پی، پنجاب اور سندھ کے 11 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو کی تصدیق ہوئی ہے، اور ملک بھر سے اب تک 54 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔وزارت صحت کے مطابق بلوچستان میں چمن، پشین اورکوئٹہ، خیبر پختون خوا میں بنوں کے ایک اور پشاورکے چارعلاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔، جب کہ سندھ میں کراچی کے علاقے کیماڑی اور ڈسٹرکٹ سینٹرل سے ماحولیاتی پولیو وائرس کے نمونے ملے ہیں، اور لاہور کے علاقے گلشن راوی کے ماحولیاتی نمونے میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

گزشتہ روز کراچی میں پولیو کا چوتھا کیس سامنے آیا تھا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹرماہی پالہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،ڈاکٹر ماہی پالہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کاوشوں کو دیکھ کر لگتا ہے آئندہ سالوں میں پاکستان فری پولیو ملک بنے گا، اس حوالے سے شہریوں کی خدمات بھی قابل ستائش ہیں، ہم پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے وزارت صحت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت اور روٹری انٹرنیشنل نے1988 میں عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے اقدام کا آغاز کیا اور 2013 تک ڈبلیو ایچ او نے دنیا بھر سے 99 فیصد پولیو کا خاتمہ کردیا تھا۔ 2013 تک زیادہ تر ممالک کو پولیو سے پاک قرار دے دیا گیا تھا مگر تین ممالک جن میں پاکستان، نائیجیریا اور افغانستان شامل ہیں، اس مرض سے مکمل چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے۔

لیکن رواں سال براعظم افریقہ بھی پولیو فری قرار دے دیا گیا ہے۔ ہرسال پولیو سے بچاو کے عالمی دن کے موقع پر پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کیلئے مختلف پروگراموں کے ذریعے ویکسی نیشن، آگاہی اور فنڈز اکٹھا کرنے کے حوالے سے بیداری پیدا کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی پولیو کے خاتمے کے حوالے سے کافی کام کیا گیا ہے جس کے باعث پولیو کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے۔

والدین کی جانب سے بچوں کو پولیو ویکسین نہ پلانا اس وائرس کے سراٹھانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔حکومت پاکستان اور مختلف فلاحی اداروں نے بارہا والدین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پولیو کے قطرے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور وہ کسی بھی ایسے گمراہ کن پروپیگنڈے پر کوئی دھیان نہ دیں۔ درپیش مشکلات کے باوجود حکومت پاکستان نے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا ہوا ہے لیکن والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو بھی اس متعدی مرض سے چھٹکارا پانے کیلئے لازمی تعاون کرنا ہوگا تاکہ ایک بچہ بھی پولیو ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔

 

متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں