پنجاب میں تقریبًا 22 لا کھ ایکڑ رقبے پر چنے کی کاشت کی جاتی ہے، محکمہ زراعت

چنے کی کاشت

اوکاڑہ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے، پنجاب میں تقریبًا 22 لا کھ ایکڑ رقبے پر چنے کی کاشت کی جاتی ہے جو ہمارے ملک میں چنے کے کل رقبے کا تقریبًا 80 فیصد ہے۔نظامت اعلیٰ زرعی اطلاعات پنجاب کے مطابق پنجاب میں چنے کا تقریبًا 92 فیصد رقبہ بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر تھل بشمول بھکر، خوشاب،لیہ، میانوالی اور جھنگ کے اضلاع شامل ہیں۔

ان اضلاع کے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر اسی فصل پر ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے چنے کے تصدیق شدہ بیج پر2 ہزار روپے سبسڈی بھی مہیا کی جا رہی ہے تاکہ چنے کی کاشت کو فروغ دیا جا سکے۔چنا غذائیت کے اعتبار سے بھی ایک اہم جنس اور گوشت کا نعم البدل ہے۔ پھلی دار فصل ہونے کی وجہ سے یہ ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے اسے زمین میں شامل کرتی ہے جس سے زمین کی زرخیزی بحال رہتی ہے۔

کاشتکار چنے کی بہتر پیداوار کے لئے دیسی چنے کی محکمہ زراعت کی سفارش کردہ ترقی دادہ اقسا م سٹار چنا،بٹل2022 ، ٹی جی سٹرائیکر،سٹار چنا،بٹل2021،بہاولپور چنا21،تھل2020،بٹل 2016،نیاب سی ایچ 104،نیاب سی ایچ 2016،بھکر2011،پنجاب 2008 اوربلکسر2000 کاشت کریں۔اس کے علاوہ محکمہ زراعت کی سفارش کردہ کابلی چنے کی ترقی دادہ اقسام نور2022، روہی چنا21،نور2019، نور2013،ٹمن 2013،نور2009 اور سی ایم2008 کا صحتمند بیج استعمال کریں۔چنے کی کاشت سے پہلے بیج کی سفارش کردہ سرائیت پذیر زہر اور جراثیمی ٹیکہ ضرور لگائیں۔چنے کی کاشت اٹک اور چکوال کے اضلاع میں کاشتکار15اکتوبر تک مکمل کریں جبکہ جہلم،راولپنڈی،گجرات اور ناروال میں 15 اکتوبر تا 10نومبرتک اور تھل کے بارانی علاقوں میں 31اکتوبر اور آبپاش علاقوں میں 20اکتوبر سے15 نومبر تک مکمل کرلیں۔صوبہ پنجاب کے دیگر آبپاش علاقوں میں 20 اکتوبر تا15 نومبر مکمل کرلیں۔زیادہ زرخیز اور ستمبر کاشتہ کماد میں 10 نومبر تک چنے کی کاشت مکمل کرلیں۔چنے کی کاشت بذریعہ ڈرل یا پور مکمل کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو سکے۔

اس کے علاوہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر جبکہ میرا اور زیادہ بارشوں والے علاقہ میں قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45 سینٹی میٹر(ڈیرھ فٹ) اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 سینٹی میٹر(6 انچ)ہونا چاہیے اور پودوں کی فی ایکڑ تعداد85 سے95ہزار فی ایکڑ ہونی چاہیے۔چنا کی فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی اور نقصان رساں کیڑوں کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ چنے کی فصل میں شروع ہی سے جڑی بوٹیوں کی تلفی نہایت ضروری ہے۔ چنے کی فصل کو پیازی، باتھو،کرنڈ، چھنکنی بوٹی،لیہلی،رُت پھلائی، دُمبی سٹی اور ریواڑی نقصا ن پہنچاتی ہیں۔جڑی بوٹیوں کی تعداد کم ہونے کی صورت میں جڑی بوٹی مار زہروں کی بجائے گوڈی کو ترجیح دیں۔ پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30تا 40 دن بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے ایک ماہ بعد کریں۔ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری نہایت آسان ہے۔بارانی اور ریتلے علاقوں میں زہر کا استعمال صرف ایسی زمین پر کرنا چاہیے جہاں مناسب وتر موجود ہو اور آبپاش علاقوں میں پینڈی میتھلین (اسٹامپ 330 ای) بحساب ڈیڑھ لٹر ف ایکڑ استعمال کریں۔

جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے کیمیائی زہروں کا استعمال ایک نہایت موثر طریقہ ہے۔جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے زہروں کا استعمال کریں۔چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ تھل کے علاقوں میں فصل کی کامیابی کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے۔ موسم سرما کی معمولی بارشیں فصل کی کامیابی کے لئے کافی ہوتی ہیں۔ بارش کم ہونے کی صورت میں پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصاً پھول آنے پر اگر فصل سوکا محسوس کرے تو ہلکا سا پانی لگا دیں۔ کابلی چنے کے لئے پہلا پانی بوائی کے 45 دن بعد اور دوسرا پھول آنے پر دیں۔