کاشتکاروں کو دھان کی فصل کی کٹائی کے وقت محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے ،ترجمان

دھان

لاہور۔31اکتوبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاشتکاروں کو دھان کی فصل کی کٹائی کے وقت محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے تاکہ زیادہ پیداوار حاصل ہو سکے۔ منگل کو جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ کٹائی کے وقت محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کرنے سے چھڑائی کے وقت چاول کا ضیاع ہونے کے علاوہ اسکی غذائیت برقرار رہتی ہے اور اچھے معیار کا چاول حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فصل تیار ہونے کے بعد زیادہ دن تک فصل کھڑی رکھنے سے دانے جھڑنے شروع ہو جاتے ہیں جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ترجمان نے کٹائی کے حوالے سے بتایا کہ پھنڈائی کے وقت ترپال یا بڑی چادریں بچھا لینی چاہئیں تاکہ دانے مٹی میں مل کر ضائع نہ ہوں ،دھان کی فصل اتنی ہی کاٹنی چاہئے جس کی اس دن پھنڈائی ہو سکے، دانوں کے ڈھیر کو رات کے وقت ترپال یا پرالی سے ڈھانپ دیں اوربعد ازاں دانوں کو جلد ہی منڈی پہنچا دینا چاہئے، اگر کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو دن کے وقت ڈھیر کو کھول کر ہوا لگا لینی چاہئے بصورت دیگر دانوں میں نمی کی وجہ سے گرمی پیدا ہو کر ان سے بو آنے لگے گی اور دانوں کا رنگ بھی متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو جائے اور دانوں میں نمی کی سطح 18 فیصد سے کم ہو جائے تو اس صورت میں مشینی کٹائی سے اجتناب کریں۔دھان کی ایک قسم کی کٹائی کے بعد اور دوسری قسم کی کٹائی سے پہلے مشین کی مکمل صفائی کریں تاکہ مختلف اقسام کی ملاوٹ نہ ہو،عمدہ کوالٹی کا چاول حاصل کرنے کے لئے پھنڈائی کے فورا بعد مونجی کو مناسب طریقہ اور احتیاط سے خشک کرنا بہت ضروری ہے، کٹائی کے وقت مونجی میں نمی کا تناسب تقریبا ً20 سے 22 فیصد تک ہوتا ہے ، کسی بھی حالت میں سکھائی کے عمل کے دوران چاول کا درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ سے نہیں بڑھنا چاہیے، مناسب درجہ حررات 40سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ ہے

مونجی کو آہستہ اور وقفوں سے خشک کریں اور ایک وقفہ سے دوسرے وقفہ کادورانیہ 12 گھنٹوں سے کم نہیں ہوناچاہیے، مونجی کو کم از کم12 گھنٹوں کے لیے کھلاچھوڑ دیں تاکہ چاول کے دانوں میں نمی کی مقدار یکساں ہو جائے۔