کاشتکاروں کو مقررہ نرخوں پر معیاری زرعی مداخل (کھاد، بیج)کی فراہمی محکمہ زراعت کی اولین ترجیح

Punjab Agriculture Department
Punjab Agriculture Department

ملتان۔ 23 نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے واضح کیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ربیع2023-24 کی فصلات بالخصوص گندم کی ضروریات کے لئے کھادیں وافر مقدار میں موجود ہیں اورکھادوں کی کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو مقررہ نرخوں پرمعیاری زرعی مداخل (کھاد، بیج)کی فراہمی محکمہ زراعت کی اولین ترجیح ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کاشتکاروں کومعیاری زرعی مداخل (کھاد،بیج) کی فراہمی کے لئے زیرو ٹالرینس پالیسی پرعمل پیرا ہے۔اورکاشتکاروں کا استحصال کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس ضمن میں کھادوں کی مقررہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کیلئے سیکرٹری زراعت پنجاب کی زیرِنگرانی محکمہ زراعت کی ٹیمیں پوری طرح متحرک ہیں.اورمہنگے داموں فروخت اوربلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پرعمل درآمدکیا جا رہا ہے۔ صوبہ بھرمیں رواں ماہ کے دوران کھادوں کی اوورپرائسنگ اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث 182 افراد کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کروایا گیا ہے۔اوران میں سے92ڈیلرزکوحوالہ پولیس کیا گیا ہے۔اس کےعلاوہ کھادوں کی مقررہ نرخوں پرفروخت نہ کرنے والے ڈیلرزکو1 کروڑ7لاکھ81 ہزار روپے سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا ہےاورکھادوں کے29 ہزار9 سو84 تھیلے ضبط کئے گئے ہیں جن کی مالیت 1 کروڑ8 لاکھ روپے ہے۔

ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ کاشتکارکھادوں کی مہنگے داموں یا بلیک مارکیٹنگ کرنے والے عناصر کے خلاف محکمہ زراعت کے متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت، ڈپٹی ڈائریکٹریا ڈائریکٹر زراعت(توسیع) کو اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دفتری اوقات میں زرعی ہیلپ لائن کے نمبر0800-17000پر بھی اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔شکایت موصول ہونے پرکارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

جعلی یا مہنگے داموں زرعی مداخل فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جارہا ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوائی جارہی ہے اور محکمہ زراعت ٹھوس شواہد کی بنا پر ملزمان کے خلاف ہرسطح پراپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے او راس دھندے میں ملّوث افراد کوقانون کے حوالے کیا جا رہا ہے۔