کاشتکار قیمتی زر مبادلہ بچانے کے لئے زیادہ رقبہ پر تل کی کاشت یقینی بنائیں،ترجمان آئل سیڈ ریسرچ

Edible oil

فیصل آباد۔ 28 فروری (اے پی پی):پاکستان اپنی خوردنی تیل کی کل ضرورت کا تقریباً 12فیصد خود پیدا کرتا ہے جبکہ باقی88فیصدحصہ کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے درآمد کیا جاتا ہے اسطرح ہرسال پاکستان تقریباً350ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے جو ملکی معیشت پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے لہٰذا کاشتکارقیمتی زر مبادلہ بچانے کیلئے تل کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت یقینی بنائیں۔

ترجمان آئل سیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے مطابق تل کم دورانیہ کی اہم تیلدار فصل ہے جس کے بیجوں میں 50فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی اور تقریباً22فیصد سے زیادہ پروٹین پائی جاتی ہے جبکہ یہ انسانوں اور مویشیوں کی بہترین غذا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلوں کا بیج ادویات سازی جبکہ تلوں کا بیج بیکری کی مصنوعات میں بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے اوراس کی کھلی دودھ اور گوشت والے جانوروں کے علاوہ انڈے دینی والی مرغیوں کی بہترین خوراک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تل کی فصل کی کاشت پر خرچہ کم جبکہ رقبہ اور وقت کے حساب سے فی یونٹ آمدنی زیادہ ہے جس کی وجہ سے تل کی فصل ایک بہترین اور نقد آور فصل کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔

انہوں نے تل کی کاشت سے لیکر برداشت تک کے عوامل اور اسکی ترقی دادہ اقسام کی کاشت کیلئے موزوں آب و ہوا، شرح بیج، وقت کاشت، زمین کی تیاری، طریقہ کاشت،کھادوں اور پانی کا استعمال، چھدرائی، گوڈی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ کیلئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔