کاشتکار وں کو سورج مکھی کی کاشت مارچ کے پہلے ہفتہ میں مکمل کرنے کی ہدایت

Department of Agriculture
Department of Agriculture

فیصل آباد۔ 28 فروری (اے پی پی):محکمہ زراعت کی جانب سے شمالی پنجاب کے کاشتکاروں کوسورج مکھی کی کاشت مارچ کے پہلے ہفتہ میں مکمل کر نے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ جنوبی پنجاب میں بھی سورج مکھی کی بہاریہ کاشت کےلئے فروری کا مہینہ بہترین ہو تا ہے تاہم اگر کسی جگہ پر کاشتکارفروری میں فصل کاشت نہیں کرسکے اور اب کرنا چاہتے ہیں تو وہ کاشت کر سکتے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے بتایا کہ سورج مکھی ایک منافع بخش فصل ہے جس سے زمیندار کم از کم 50سے 60 ہزار روپے فی ایکڑ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سورج مکھی موسم بہار اور موسم خزاں میں انتہائی کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ سورج مکھی کی کاشت مختلف فصلوں کے ساتھ ردو بدل میں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے جبکہ یہ اپنی گہری جڑوں کی وجہ سے پانی کی کمی بھی برداشت کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے اور کم خرچ کے باوجود فی ایکڑ 40سے 45من تک پیداوار دیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سورج مکھی سیم زدہ اور زیادہ کلراٹھی زمین کے علاوہ جنوبی پنجاب، شمالی پنجاب، زیریں سندھ، بالائی سندھ، میدانی علاقوں، پہاڑی علاقوں میں باآسانی کاشت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتا یا کہ زمین کی تیاری کےلئے ایک بار مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں تاکہ پودوں کی جڑیں گہرائی تک جا سکیں اور بعد میں کلٹی ویٹر اور سہاگہ کی مدد سے بھی زمین کو تیار کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ آبپاشی کا دارو مدار موسمی حالات پر ہوتا ہے تاہم پہلا پانی فصل کی روئیدگی کے 20سے 30دن کے بعد دے دینا چاہیے۔ اس ضمن میں محکمہ زراعت کی ہیلپ لائن یا قریبی ماہرین زراعت سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔