کاشتکار کماد کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے صرف منظور شدہ اقسام ہی کاشت کریں،اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت

فیصل آباد۔ 25 اگست (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد ڈاکٹر خالد اقبال نے کاشتکاروں کو کماد کی منظور شدہ اقسام ہی کاشت کرنے کی ہدائت کی ہے اور کہا ہے کہ کاشتکار کمادکی ترقی دادہ اگیتی اقسام سی پی ایف 243، سی پی ایف 246، سی پی ایف 247،ایس ایچ ایف 240، ایچ ایس ایف 242، سی پی 77-400، سی پی 72-2086، سی پی 433-33، سی پی ایف 237 وغیرہ، درمیانی تیار ہونے والی اقسام ایس پی ایف 245، 234،213، ایس پی ایس جی 26 وغیرہ کاشت کر کے بہترین پیداوار حاصل کرسکتے ہیں نیز پچھیتی تیار ہونے والی قسم سی او جے 84بھی کاشت کی جاسکتی ہے تاہم وہ کماد کی ممنوعہ اقسام ٹرائی ٹان،

سی او ایل 54، سی او 1148(انڈیا)، سی او ایل 29، 44، بی ایل 4، ایل 116،118،ایس پی ایف 238اور بی ایف 162وغیرہ کی کاشت سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ ستمبر کا پور امہینہ کما د کی کاشت کیلئے انتہائی موزوں ہے لہٰذ ا کاشتکار بہتر پیداوار کے حصول کیلئے ستمبر کے پورا مہینہ کے دوران کماد کی کاشت کر سکتے ہیں لیکن اس کیلئے بہتر زمین کا انتخاب ضروری ہے نیز کاشتکار فصل کی کاشت سے قبل ہموار زمین میں گہرا ہل چلا کر مناسب تیاری کے بعد سہاگہ لگائیں اور پھر رجز کے ذریعے 10سے12انچ تک گہری 4فٹ کی کھیلیاں بنائی جائیں۔انہوں نے بتایا کہ کاشتکاروں کو کمادکی ممنوعہ اقسام کی کاشت سے روک دیاگیا ہے اور کہاگیا ہے کہ کاشت کار ممنوعہ اقسام کی کاشت سے گریز کریں۔

انہوں نے بتایاکہ ممنوعہ اقسام کی کاشت سے کماد کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے کاشتکار صرف کماد کی سفارش کردہ اقسام ہی کاشت کریں تاکہ بعد میں انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مزید برآں انہوں نے کاشتکاروں کو کماد کی فصل کو چوٹی کے گڑوؤں سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ چونکہ سفید رنگ کا یہ پروانہ جس کی مادہ کے پیٹ کے سرے پر بھورے رنگ کے بالوں کا گچھا ہوتاہے کماد کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتاہے اسلئے کاشتکار مذکورہ کیڑے پر نظر رکھیں اور اس کے تدارک کیلئے فوری اقدامات میں کسی کوتاہی کامظاہرہ نہ کریں۔

انہوں نے بتایاکہ سنڈی کا رنگ سفید اور پیٹ پر لمبے رخ ایک گہرے بھورے رنگ کی دھاری ہوتی ہے جبکہ فصل کو اس بورر سے شدید نقصان پہنچتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ اگست سے لے کر نومبر تک اس کی 4سے5 نسلیں حملہ آور ہوتی ہیں جس کے سوک کو آسانی سے کھینچا جاسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ اس کیڑے سے گنے کی چوٹی کی طرف شاخوں کاگچھا سا بن جاتاہے اور تنے کے گڑوؤں کے پروانے بھورا رنگ اختیارکرتے ہوئے اگلے پروں کے باہری کناروں پر سیاہ دھبوں کی قطار بنا لیتاہے۔انہوں نے بتایاکہ یہ کیڑا سردیاں سنڈی کی حالت میں مڈھوں میں گزارتاہے لیکن ستمبر اکتوبر میں یہ باہر آکر فصل پر حملہ شروع کردیتاہے۔

انہوں نے کہاکہ اس حملہ سے گنے کے پہلومیں شاخیں نکل آتی ہیں اور خاص طور پر خشک سالی میں کماد کو بہت زیادہ نقصان ہوتاہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور کسی بھی قسم کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری انسدادی اقدامات کو یقینی بنایاجائے تاکہ بعد ازاں انہیں کسی بڑے مالی نقصان کا سامنا نہ کرناپڑے۔