کاٹن ایکشن پلان کے تحت کپاس کی کاشت کے اہداف کے حصول کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع

کپاس کی کاشت کاچیلنجنگ ٹاسک مکمل کرنے کیلئے تمام افسران بہترین پیشہ وارانہ صلاحیتیں بروئے کار لائیں،سیکرٹری زراعت

فیصل آباد۔ 23 اپریل (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع چوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ کاٹن ایکشن پلان25-2024کے تحت پنجاب میں کپاس کاشت کے اہداف کے حصول کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔موجودہ ملکی معاشی صورتحال میں فصل کپاس کے پیداواری اہداف کا حصول ٹیکسٹائل سیکٹر کی بحالی میں گیم چینجر ثابت ہو گا۔

پنجاب میں کپاس کی بحالی کے ایکشن پلان25-2024 کے تحت کپاس کی کاشت کا فروغ، کاشتکاروں کی زرعی آمدن میں اضافہ کے علاوہ جننگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی اور ملکی معیشت کے استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اڈہ مرید والا، تحصیل سمندری میں کاشتکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کاشتکاروں کے اس اجتماع سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع تحصیل سمندری حافظ محمد عدیل کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن فیصل آباد محمد اسحاق لاشاری،سینئر زراعت آفیسر محکمہ زراعت توسیع تحصیل سمندری ڈاکٹر محمد عامر صدیق،ڈاکٹر محمد نعیم اور اسد سعید نے بھی خطاب کیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع حافظ محمد عدیل نے بتایا کہ اضلا ع وتحصیل کی سطح پر کپاس کی بہتر دیکھ بھال اور زرعی مداخل کی بروقت فراہمی کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اگیتی کپاس اگاؤ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے گاؤں کی سطح پر تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

موجودہ وفاقی اورصوبائی حکومت کپاس کی کاشت، بہتر دیکھ بھال اور پیداوار میں اضافہ کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے،جس کے حصول کیلئے ڈویژن و ضلعی انتظامیہ،محکمہ زراعت و دیگر اسٹیک ہولڈرز ملکر کاوشیں کررہے ہیں۔

اس سلسلہ میں ڈویژنل، ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر جاری زرعی سرگرمیوں کی اعلی سطح پر مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد ڈویژن،چوہدری عبدالحمیدکی قیادت میں 1 لاکھ 18 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت سے دو لاکھ سے زائد کپا س کی گانٹھوں کے حصول کے لئے قومی جذبہ کے تحت کاوشیں قابل ستائش ہیں۔

زراعت آفیسران، محکمہ زراعت توسیع، تحصیل سمندری، ڈاکٹر محمد عامر صدیق،ڈاکٹر محمد نعیم اور اسد سعید نے کاشتکاروں کو بتایا کہ معیاری زرعی مداخل، زرعی ادویات، کیمیائی کھادوں اور نہری پا نی کی بروقت دستیابی کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔

محکمہ زراعت کے علاوہ دیگر سٹیک ہولڈرز پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں اور ترقی پسند کاشتکاروں پر مشتمل گاؤں کی سطح پر164 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو کپاس کی فصل کی کاشت اور بہتر دیکھ بھال کے لئے کاشتکاروں کی فنی رہنمائی میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگیتی کپاس کی جاری مہم کے باعث کاشت کار فصل کی بوائی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

زرعی ماہرین پر مشتمل فیلڈٹیمیں کپاس کاشت کے علاوہ فصل کی بہتر دیکھ بھال بارے کاشتکاروں کی رہنمائی میں مصروف عمل ہیں اور اعلی کوالٹی کی حامل زرعی ادویات اور کھادوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ساز گارموسمی حالات،کاشتکاروں کی بھر پور محنت اور زرعی ماہرین کی فنی رہنمائی سے پیداواری اہداف کے حصول ممکن ہو گا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن فیصل آباد محمد اسحاق لاشاری نے کاشتکاروں کو بتایا کہ کاشتکاروں تک معیاری بیجوں کی فراہمی کیلئے کپاس، گندم اور چاول کی فصل پر تحقیق کے لئے جدید سنٹرز آف ایکسیلنس کا قیام لایا جا رہاہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس موقع پر بتایا کہ پاک چائنا ریسرچ ایند ڈویلپمنٹ سنٹر کے قیام سے پنجاب میں زرعی تحقیق کو فروغ حاصل ہو گا۔

پنجاب میں سبز زرعی انقلاب برپاکرنے کیلئے جدید زرعی مراکز کے قیام کے علاوہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اور پنجاب ایگری کلچر ریسرچ بورڈ کی جدید طرز پر بحالی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہائی ٹیک میکانائزیشن کے فروغ کے منصوبہ کے تحت سات ارب کی لاگت سے چھوٹے کاشتکاروں کو56اقسام کے 25ہزار جدید زرعی آلات و مشینری سبسڈی پر فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید برآں 2ارب کی لاگت سے 3ہزارلیزر لینڈ لیولرز بھی سبسڈی پر فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انسداد سموگ پروگرام کے تحت دھان کے کاشتکاروں کو5ہزار سپر سیڈر،پاک سیڈر اور رائس اسٹرا شریڈر فراہم کئے جائیں گے۔