کوپ 27 میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہم معاہدہ اور ”ڈیمیج اینڈ لاس” فنڈ کا قیام بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کاکراچی میں چینی قونصل خانے کا دورہ

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ماحول کو نقصان پہچانے والے ایندھن کے استعمال کو ختم کرنے کے لئے عملی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوپ 27 میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہم معاہدہ اور ”ڈیمیج اینڈ لاس” فنڈ کا قیام پوری دنیا کی بڑی کامیابی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے کلائیمنٹ بینک قائم کیا جائے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو مناسب شرح پر قرضے فراہم ہو سکیں۔پاکستان میں حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں سے صرف ترقی پذیر ممالک ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کوپ 27 میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اہم معاہدہ کسی ایک ملک نہیں، پوری دنیا کی جیت ہے، معاہدہ ان لوگوں کی جیت ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے متاثر ہوئے ہیں، مالی تعاون کے حوالے سے دیکھنا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کیا طریقہ کار ہوگا اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کو اس سے کس طرح فائدہ پہنچے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مالی تعاون کا معاملہ کوپ کے آئندہ اجلاس تک مکمل ہونے کا امکان ہے جس کی میزبانی متحدہ عرب امارات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جی 77 پلس چین کے ارکان میں سے بہت سے ممالک ماضی میں ہونے والے وعدوں کی عدم تکمیل پر پریشان ہیں، یہی وجہ ہے کہ معاہدے کی تحریر اس حوالے سے اہم ہے جو ممالک کو اپنے وعدوں کی پاسداری کا پابند بناتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے صرف ترقی پذیر ممالک ہی نہیں، ترقی یافتہ دنیا بھی متاثر ہوگی، ”جی 77 پلس چین” کے موجودہ چیئرمین کے طور پر پاکستان چاہتا ہے کہ معاہدے کے نکات پر عملدرآمد ہو۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے ”ڈیمیج اینڈ لاس” فنڈ قائم کیا گیا ہے اور مالی مدد کی فراہمی کے لئے انتظامات کئے گئے ہیں، متعین وقت میں اس سے منسلکہ اہداف کو پورا کرنے کے لئے کام کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان جی 77 اور یو اے ای کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے، ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کے بجائے اجتماعی بقاء کے لئے مشترکہ جدوجہد پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے پہلی بار تباہی نہیں ہوئی، اس سے قبل بھی گرمی کی سخت لہر اور سیلاب آ چکے ہیں،

اگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے رجوع کیا جا سکتا ہے تو ایک ”کلائیمیٹ بینک” بھی ہونا چاہئے جہاں متاثرہ ممالک جا سکیں اور اس کلائیمیٹ بینک سے مناسب شرح پر قرضے لئے جا سکیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں اپنے لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، ماحول کو نقصان پہنچانے والے ایندھن کے استعمال کو ختم کرنے کے لئے عملی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔