گندم کی خریداری کے اہداف بارے فیصلے میں تاخیرکی خبریں گمراہ کن ہے، ترجمان وزارت خزانہ

گندم کی خریداری کے اہداف بارے فیصلے میں تاخیرکی خبریں گمراہ کن ہے، ترجمان وزارت خزانہ

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وزارت خزانہ نے پریس کے بعض حصوں میں گندم کی خریداری کے اہداف بارے فیصلے میں تاخیرکی خبروں کوگمراہ کن قراردیتے ہوئے ان کی تردیدکی ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے ہفتہ کویہاں جاری بیان میں کہاگیاہے کہ پریس کے ایک حصے میں شائع ہونے والی خبروں سے گمراہ کن تاثر دیا جارہاہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی) نے گندم کی خریداری کے اہداف پر فیصلے میں تاخیر کی ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ان دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 4 اپریل کو ہونے والے اپنے اجلاس میں گندم کی خریداری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ متعلقہ وفاقی وزارتوں کی رائے پر غور کرنے کے بعد ای سی سی کے اراکین نے محسوس کیا کہ اس حوالہ سے غور و خوض میں صوبائی حکومتوں کو شامل کرنا مناسب ہوگا کیونکہ وہ فیصلوں پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہوں گے۔

لہذا اجلاس 5 اپریل کو دوبارہ بلایا گیا جس میں تمام صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔صوبائی نمایندوں نے اپنے متعلقہ صوبوں میں میں گندم کی خریداری سے متعلق تازہ ترین صورتحال کے بارے میں کمیٹی کو معلومات فراہم کیں اور اس مقصد کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے کے لیے اپنی ضروریات کا جائزہ لیا۔

کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد وزارت خوراک اور صوبوں کی طرف سے تجویز کردہ خریداری کے ہدف اور اس مقصد کے لیے درکار کیش کریڈٹ کی حد کی منظوری دی۔ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ محکموں نے وزارت غذائی تحفظ وتحقیق کی طرف سے پیش کردہ اہداف میں کوئی اضافہ یا کمی کی تجویز نہیں دی اور نہ ہی ای سی سی نے ایسی کسی تبدیلی کی منظوری دی۔

حکومت پنجاب کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ میں گندم کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور خریداری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار کی امدادی قیمت کی سطح پر فروخت کو ممکن بنانے کیلئے صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گی ۔

ترجمان نے بتایا کہ ای سی سی نے اپنے افتتاحی اجلاس میں فیصلہ کیاتھا کہ جو بھی امورکمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے ان پر عجلت اور ربڑ سٹمپنگ کے اقدامات کے بجائے مبنی برمعلومات فیصلے کئے جائیں گے ۔

کمیٹ نے یہ بھی فیصلہ کیاتھا کہ کہ دورروس اثرات کے حامل امورپر تمام شراکت داروں کی رائے لی جائیگی۔ 4 اور 5 اپریل 2024 کو ای سی سی کے اجلاسوں کے دوران تفصیلی بات چیت اور فیصلوں سے اس پالیسی کی عکاس ہورہی ہے