ریو ڈی جنیرو ۔27اگست (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے یورپی ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین نے 800 ارب یورو کی عسکری خریداری کی منظوری دے کر بنیادی انسانی مسائل جیسے عالمی بھوک کے خاتمے کے بجائے ہتھیاروں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔
شنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے کمیونٹی کے تمام ممالک کے اسلحے کے ذخیرے کے لیے 800 ارب یورو کی منظوری دی ہے، جبکہ ہم ترقی پذیر ممالک اس رقم کو بھوک روکنے یا جنگلات کے تحفظ میں لگائیں گے۔انہوں نے اقوام متحدہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اپنی اصل ذمہ داری، یعنی جنگوں کی روک تھام، میں ناکام رہا ہے۔
غزہ میں جاری کشیدگی کو اقوام متحدہ کے بحران کی مثال قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے طویل عرصے سے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ کوئی ایسا وجود ہو جو نسل کشی کو روکے اور جنگوں کو ختم کرے۔ اسی لیے ہم عالمی حکمرانی کی نئی تشکیل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
واضح رہے یہ پہلا موقع نہیں جب برازیلی صدر نے یورپی عسکری اخراجات کی مذمت کی ہو۔ مئی میں روس کے دورے کے بعد بھی انہوں نے یورپی یونین اور اس کے اتحادیوں خاص طور پر جاپان کی اسلحہ خریداری کی رفتار کو پاگل پن قرار دیا تھا۔