پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 35 فیصد اور مالی خسارہ 36 فیصد تک کم ہوا ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

کوالالمپور ۔ 4 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو جس وقت حکومت ملی ہماری معاشی حالت دگرگوں تھی، تمام معاشی اشاریے زبوں حالی کی تصویر پیش کر رہے تھے، ایک طرف معاشی خسارہ بڑھتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ہم قرضوں کے بوجھ سے نڈھال تھے، اس ساری صورتحال کے پیش نظر ہمیں معاشی بحران سے نکلنے …

کوالالمپور ۔ 4 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو جس وقت حکومت ملی ہماری معاشی حالت دگرگوں تھی، تمام معاشی اشاریے زبوں حالی کی تصویر پیش کر رہے تھے، ایک طرف معاشی خسارہ بڑھتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ہم قرضوں کے بوجھ سے نڈھال تھے، اس ساری صورتحال کے پیش نظر ہمیں معاشی بحران سے نکلنے کیلئے بہت سے مشکل فیصلے کرنا پڑے، ان فیصلوں کی بدولت آج الحمدللہ ہم معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں، معیشت کو پرکھنے کیلئے قائم تمام اشاریے بہتری کی نوید سنا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی نژاد سلطانہ کلثوم آف پاہنگ کی طرف سے دیئے گئے ظہرانے میں کیا۔ اس موقع پر مادام سلطانہ کلثوم آف پاہنگ نے وزیر خارجہ کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ ظہرانے میں ملائشیا کی نامور کاروباری شخصیات جن میں سیسکام کمپنی کے چیئرمین داتو سری لیو آریانہ یاکم، بی آر ڈی بی کنسٹرکشن کمپنی کے چیئرمین داتو سری اکبر خان، لم کاک ونگ یونیورسٹی کے چیئرمین داتو سری لم کاک ونگ، آٹی انجینئرنگ سروسز کے سی ای او جواد رضوی، ناصر رضوی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویسٹر گروپ داتو وکرم مینن،چیئرمین امپیانا ہوٹل عبداللہ فاروق بھی شریک تھے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے ملائشین بزنس کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے میسر مواقعوں اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی سہولیات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو جس وقت حکومت ملی ہماری معاشی حالت دگرگوں تھی، تمام معاشی اشاریے ہماری زبوں حالی کی تصویر پیش کر رہے تھے، ایک طرف معاشی خسارہ بڑھتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ہم قرضوں کے بوچھ سے نڈھال تھے، اس ساری صورتحال کے پیش نظر ہمیں معاشی بحران سے نکلنے کیلئے بہت سے مشکل فیصلے کرنا پڑے، ان فیصلوں کی بدولت آج الحمدللہ ہم معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2019ء کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 35فیصد جبکہ مالی خسارہ 36 فیصد تک کم ہوا، ریونیو کی مد میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے، مثبت معاشی پالیسیوں کے سبب بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، گذشتہ تین سالوں میں پہلی مرتبہ سرمایہ کاری کا حجم 340ملین ڈالر تک جا پہنچا اور اسٹاک مارکیٹ میں 21 فیصد تک بہتری کا رحجان دیکھنے میں آیا، حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے مخلصانہ کاوشیں کررہی ہے، کاروبار میں آسانی کے حوالے سے عالمی بنک کی درجہ بندی میں ہم 28 درجے عبور کر کے ٹاپ ٹن ممالک کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے ملائشین بزنس کمیونٹی کو تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی توانائی، حلال فوڈز، آئیل اینڈ گیس اور سستے گھروں کی تعمیر سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔