وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر نے کے اقدام کو وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے میری ٹائم اور لاجسٹک سیکٹر کے لیے قابل تحسین فیصلہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے خاتمے سے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا اور اس …
آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر نے کا اقدام میری ٹائم اور لاجسٹک سیکٹر کے لیے قابل تحسین فیصلہ ہے، محمد جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر نے کے اقدام کو وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے میری ٹائم اور لاجسٹک سیکٹر کے لیے قابل تحسین فیصلہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے خاتمے سے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا اور اس سے ملک کی میری ٹائم سروسز کی مسابقت میں بہتری آئے گی۔
ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 18 فیصد سیلز ٹیکس کے خاتمے سے نقل و حمل اور لاجسٹکس کے اخراجات کو کم کرکے تجارت میں سہولت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام سمندری شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا اور مقامی شپنگ سروسز کی ترقی کو سپورٹ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس ریلیف سے نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے کاروبار ی لاگت میں کمی اور میری ٹائم انٹرپرائزز کے لیے کاروبار کے لیے مزید سازگار ماحول پیدا کرکے بلیو اکانومی کے استحکام کی امید ہے۔ کم آپریشنل لاگت کے حوالہ سے وفاقی وزیر نے کہا کہ سپلائی چین کی کارکردگی کو بڑھانا چاہیے اور بین الاقوامی تجارت میں پاکستانی کمپنیوں کی مسابقت کو بڑھانا چاہیے۔
جنید انوار چوہدری نے دلیل پیش کی کہ اس اقدام سے متعلقہ شعبوں بشمول پورٹ آپریشنز، لاجسٹکس اور میری ٹائم سروسز میں روزگار اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، اور سمندری انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور تجارتی صلاحیت کو بڑھانے کی کوششوں میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی گروپوں کی طویل عرصے سے شکایت تھی کہ زیادہ ٹیکس اور آپریشنل اخراجات پاکستان کے جہاز رانی کے شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ وفاقی وزیر نے بجٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قومی معیشت میں اس شعبے کا حصہ بڑ ھے گا اور ملک کی بحری صلاحیتوں کو تقویت مل سکتی ہے۔







