رحیم یارخان ۔ 27 اگست (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر خرم پرویز نے دریائے سندھ میں متوقع سیلاب کے پیش نظر میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دریائے سندھ میں بڑھتی سیلابی صورتحال کے پیش نظر تمام امدادی اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا۔آئندہ36گھنٹوں میں ضلع میں دریائے سندھ سے ایک بڑا سیلابی ریلا گزرے گا۔ محکمہ انہار کی پیشنگوئی کے مطابق10تا 12لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرنے کی توقع ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 2010سے بڑا سیلابی ریلا ضلع کی حدود سے گزرنے جا رہا ہے۔ ضلع میں فلڈ ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ دریائی مواضعات سے عوامی انخلاء کے لئے ضلع میں دفعہ 144کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ دریائے سندھ میں سیلاب کے باعث ضلع کے 95مواضعات متاثر ہوں گے۔ 44مکمل جبکہ 51مواضعات جزوی طور پر سیلاب سے متاثر ہوں گے۔ دریائی مواضعات میں 3لاکھ25ہزار نفوس پر مشتمل آبادی رہائش پذیر ہے۔ 5لاکھ57ہزار سے زائد مال مویشی بھی دریائے بیٹ میں موجود ہیں۔ خرم پرویز کے مطابق آبادی کے انخلاء کے لئے اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا ئے گا۔
آبادی کے انخلاء کے لئے 58پرائیوٹ دریائی بیڑوں کو بھی سرکاری تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ ضلع کی چاروں تحصیلوں میں 21ریلیف کیمپس قائم کئے جا رہے ہیں۔ رحیم یار خان میں 7، خانپور 5، صادق آباد 5اور لیاقت پور میں 4ریلیف کیمپس قائم کئے جائیں گے۔ چاروں تحصیلوں میں بلترتیب دو، دو ریلیف کیمپس فوری قائم کئے جا رہے ہیں۔ ضلع میں دریائے سندھ منچن بند 186کلو میٹر طویل ہے۔
محکمہ انہار کو منچن بند کی24گھنٹے نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی ہیڈ کواٹر اور چاروں تحصیلوں میں ایمرجنسی کنٹرول رومز فعال کر دیئے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت سے مکمل رابطہ میں ہے۔ صوبائی حکومت، پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا جا رہے ہے۔ ضلع رحیم یار خان سے پنجاب کے تمام دریاؤں سے آنے والا سیلابی پانی گزارا جائے گا۔ خرم پرویز نے کہا کہ میڈ یا عوامی انخلاء کے لئے آگہی پیدا کرے تاکہ دستیاب وقت میں لوگ محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔