آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ جاری

اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جائزہ بورڈ نے اقتصادی کارکردگی کے اشاریوں سے متعلق پاکستان کی معاشی کارکردگی کے پہلے جائزہ کی تکمیل پر پاکستان کی معاشی کارکردگی کا اعتراف کیا ہے اور آئی ایم ایف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا اصلاحاتی ایجنڈہ درست سمت گامزن ہے اور اس نے پہلے سے ہی نتائج دینا شروع کر دیئے ہیں۔ …

اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جائزہ بورڈ نے اقتصادی کارکردگی کے اشاریوں سے متعلق پاکستان کی معاشی کارکردگی کے پہلے جائزہ کی تکمیل پر پاکستان کی معاشی کارکردگی کا اعتراف کیا ہے اور آئی ایم ایف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا اصلاحاتی ایجنڈہ درست سمت گامزن ہے اور اس نے پہلے سے ہی نتائج دینا شروع کر دیئے ہیں۔ پہلے جائزے کی تکمیل پر آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ کن پالیسی پرعملدرآمد کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی مشکلات حل ہونا شروع ہوگئی ہیں اور اس کا عدم توازن واپس ہونا شروع ہوگیا ہے ،معاشی استحکام میں بہتری آ رہی ہے۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ کاروباری ماحول بہتر ہوا ہے اور مارکیٹ کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف نے جائزہ رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ حکومت کو اس بات کا اعتراف ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات بالخصوص ایس او ای کے شعبہ میں اصلاحات اقتصادی سرگرمی کی بحالی اور نمو کیلئے کلیدی ہیں۔ آئی ایم ایف نے 328 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 452.4 ملین ڈالر) جاری کئے جس سے مجموعی قرضے 1044 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 1.45 ارب ڈالر) پر آگئے ہیں۔ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ستمبر کے اختتام پر کارکردگی کا پیمانے کا وسیع مارجن کے ساتھ مشاہدہ کیا گیا ہے جس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان سے بجٹ کیلئے صفر قرضے، ابتدائی بجٹ خسارہ کی حد حکومتی ضمانتوں پر سرپرستی بیرونی سرکاری واجبات کی ادائیگیاں صفر ، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مجموعی بین الاقوامی ذخائر، مجموعی ملکی اثاثے اور دیگر عوامل شامل ہیں جنہیں مکمل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں افراط زر کے آئوٹ لک کے حوالے سے آئی ایم ایف مالی سال 2020ء کیلئے افراط زر کی شرح میں اضافہ کم ترین شرح 11.8 فیصد جو اس سلسلے میں پہلے ظاہر کئے گئے 13 فیصد سے کم ظاہر کیا گیا ہے جو اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ انتظامی اور توانائی کے ٹیرف کی ایڈجسٹمنٹ اور مقامی مانگ میں کمی کے توازن سے متوقع ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ بنیادی افراط زر کے ساتھ ہی افراط زر نے مستحکم ہونے کا آغاز کر دیا ہے اور سٹیٹ بینک کا موقف (مزید شرح میں اضافے کی ضرورت نہیں) درست ہے۔ تاہم ہماری نظر میں آئی ایم ایف کی بڑھوتری سے زیادہ بہتر کارکردگی کا ہم مظاہرہ کریں گے۔ جولائی نومبر کے دوران افراط زر 10.8 فیصد تھا اور اقدامات کے ذریعے وسعت مدت کے دوران افراط زر کو کم کر کے پانچ فیصد لانے کا ہدف بنایا گیا ہے۔ بیرونی شعبے کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔مجموعی حسابات جاریہ کا خسارہ مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں مالی سال 2019ء کے اس عرصہ کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی فیصد (74 فیصد) کم ہوا ہے۔ حسابات جاریہ کے خسارے میں کمی سے مالی سال 2020ء کے دوران جی ڈی پی کی شرح (4.9 فیصد ) سے کم ہو کر 2.4 فیصد رہنے کا امکان ہے جس کی آئی ایم ایف نے 2.6 فیصد کی پیشنگوئی کی تھی اس سے بھی کم ہے۔ مجموعی درآمدات سالانہ شرح سے مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں 23 فیصد تک کم ہوئی ہیں تاہم مشینری اور آلات کی درآمدات مزاحم رہیں اور سالانہ تقریباً 2 فیصد بڑھیں۔ برآمدات میں بحالی کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں جس میں سالانہ بنیاد پر اس عرصے کے دوران 2 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے خوراک اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بڑھوتی کا حجم 17 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ میں طے شدہ شرح مبادلہ میں بہتری سے روپے کو اپنی قدر بہتر کرنے کا موقع ملا ہے جس سے گزشتہ پانچ برسوں کی شرح تبادلہ کو درست کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ رپورٹ میں مضبوط مالیاتی کارکردگی کا بھی اعتراف کیا گیا ہے جس کا اظہار مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں کیا گیا ہے جس میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 0.6فیصد کہا گیا ہے اور مجموعی خسارہ جی ڈی پی کا 0.6 فیصد پروگرام کے مقابلے میں جی ڈی پی ایک فیصد بہتر رہی اس کے علاوہ ٹیکس محصولات میں ڈبل ڈیجٹ اضافہ (مجموعی ری فنڈ) ہے۔ اگرچہ کسٹم وصولیاں اور دیگر بیرونی شعبہ سے متعلقہ ٹیکس درآمدی دبائو کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت کی حاصل کی جانے والی اہم مراعات میں سٹیٹ بینک آف پاکستان (کارکردگی کے طرہ امتیاز) کے این ڈی اے کی حد بڑھا کر 9.1 ٹریلین کرنا، شامل ہیں یہ ایک مثبت بڑھوتی ہے جو درآمدی صنعت کیلئے مالیاتی مراعات کیلئے بروئے کار لائی جائے گی۔ حکومتی ضمانتوں کی حد بڑھا کر 1.8 ٹریلین کر دی گئی ہے اور مالی سال 2020ء میں 252 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے یہ ترقی کیلئے مثبت ہے جس سے حکومت کو گردشی قرضوں کے واجبات کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔مالی سال 2020ء کیلئے ایف بی آر کے ٹیکس محصولات کی حد پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اسے 5.2 ٹریلین (5.5 ) تک لایا گیا ہے اور نان ٹیکس محصولات کی وجہ سے بھرپور بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران سرکاری نان ٹیکس محصولات کی وصولیاں 878 بلین روپے سے تجاوز کر گئیں جو پورے سال کے بجٹ محصولات کے 1.16 ٹریلین ہدف کا 75 فیصد بنتی ہیں۔ مالی سال 2020ء کی سہ ماہی جولائی نومبر کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس محصولات کی شرح میں 16.8 فیصد اضافہ ہوا جو پچھلے سال کے 1 ہزار 382.9 ارب روپے کے مقابلے میں 1 ہزار 615.2 ارب روپے رہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں ملکی سطح پر ٹیکس وصولیوں میں 21.5 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ بیرون ملک سے درآمد پر ٹیکس وصولیوں میں 2.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2020ء کی جولائی نومبر سہ ماہی کے دوران درآمدات میں 4.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 9.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10.31 ارب ڈالر رہیں جبکہ مالی سال 2020ء کے جولائی نومبر سہ ماہی کے دوران درآمدات میں 21.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23.22 ارب ڈالر کے مقابلے میں 18.31 ارب ڈالر رہیں۔ مالی سال 2020ء کی سہ ماہی جولائی نومبر کے دوران تجارتی خسارے میں 40.1 فیصد کمی ہوئی ہے جو پچھلے سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 13.36 ارب ڈالر سے کم ہو کر 8.002 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ سیمنٹ ڈسپیچز 5.8 فیصد اضافے کے ساتھ 20.462 ملین ٹن ریکارڈ کی گئیں۔ سیمنٹ کی برآمدات 21.5 فیصد اضافے کے ساتھ 3.608 ملین ٹن ریکارڈ کی گئیں۔ دیگر پیشرفت میں پی ایس ڈی پی کے اجراء کے نظام کو متحرک بنایا گیا ہے اس سلسلے میں طریقہ کار اور فنانس ڈویژن سے اس کی توثیق کے عمل کو ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسری بڑی پیشرفت بلوم برگ کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج بہترین کارکردگی کی حامل مارکیٹ بن گئی ہے ۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 10 ہزار 500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح موڈیز انویسٹر سروس نے پاکستان کی درجہ بندی کو منفی سے مستحکم قرار دیا۔ بیرونی محاذ پر نومبر 2019ء میں برآمدات میں 11.23 فیصد اضافے کے ساتھ 2.11 ارب ڈالر رہیں جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصہ کے دوران 1.897 ارب ڈالر تھیں جبکہ درآمدات میں 13.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.202 ارب ڈالر کے مقابلے میں 3.648 ارب ڈالر رہیں۔ اکتوبر 2019ء میں ماہانہ بنیاد پر ایل ایس ایم رجسٹر گروتھ 4.01 فیصد رہی جو مثبت رجحان ظاہر کرتی ہے۔ نومبر میں سیمنٹ ڈسپیجز 10.6 فیصد اضافے کے ساتھ 4.35 ملین ٹن ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری اہم پیشرفت میں کارکے دوبارہ مذاکرات کے ذریعے پاکستان کے 1.2 ارب روپے بچائے گئے۔ گردشی قرضوں کی مد میں ماہانہ بہائو میں جولائی 2019ء میں 38 ارب روپے ماہانہ سے کم کرکے 10 ارب روپے تقریباً پر لایا گیا۔ آئندہ برس اسے صفر پر لانے کا ہدف ہے۔ ڈیبٹ کے سٹاک سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ بجلی چوری کی نشاندہی اور وصولیوں میں بہتری لائی گئی ہے۔ وزارت توانائی مالی سال 2020ء کے دوران 250 ارب روپے کے اضافی سکوک بانڈز جاری کرے گی تاکہ آئی پی پیز کے واجبات کو ادا کیا جاسکے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کے ذریعے قابل خرید گھروں کی تیاری کیلئے مالی سال 2020ء کے دوران 20 ارب سے 30 ارب روپے کا اضافی بجٹ رکھا گیا ہے تاکہ 10 فیصد ڈائون پیمنٹ کے ساتھ استفادہ کرنے والوں کو قابل خرید گھر مہیا کیے جاسکیں۔ اس محرک کا معیشت پر مجموعی اثر 200 ارب روپے سے 300 ارب روپے کے برابر ہوگا۔ ٹیکس کریڈٹ 10 فیصد کے مساوی رقم تک ان منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے جن میں لیبر سے متعلقہ لاگت ابتدائی دو سال کے دوران ڈویلپر سے لی جائے گی۔ برآمد کنندگان کیلئے کریڈٹ کا اضافی پیکج ایکسپورٹ فنانس سکیم کے تحت 200 ارب روپے برآمد کنند گان کیلئے متعارف کرائے گئے رکھا گیا ہے جو مالی سال 2020ء کیلئے ہے انٹرسٹ ریٹ کا فرق ادا کرنے کیلئے مالی سال 2020ء میں حکومت 10 ارب روپے کی اضافی سبسڈی ادا کرے گی۔ اس اقدام سے درآمدات شعبہ بڑھے گا، ترقی کرے گا اور کاروبار کرنے کی لاگت کم ہوگی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان برآمد کنندگان روپے کو 100 ارب روپے کے اضافی قرضے دے گا جس پر حکومت سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کے ذریعے سبسڈی دے گی۔