اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آلودگی سے پاک توانائی کی طرف منتقلی نہ صرف ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا بھی ایک جامع ذریعہ ہے،حکومت پاکستان نے آلودگی سے پاک توانائی کی جانب منتقلی کو موسمیاتی اور ترقیاتی ایجنڈے میں فوقیت دی ہے۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق آلودگی …
آلودگی سے پاک توانائی کی طرف منتقلی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا جامع ذریعہ ہے، صدر آصف علی زرداری کا آلودگی سے پاک توانائی کے عالمی دن پر پیغام
اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آلودگی سے پاک توانائی کی طرف منتقلی نہ صرف ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا بھی ایک جامع ذریعہ ہے،حکومت پاکستان نے آلودگی سے پاک توانائی کی جانب منتقلی کو موسمیاتی اور ترقیاتی ایجنڈے میں فوقیت دی ہے۔
ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق آلودگی سے پاک توانائی کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آلودگی سے پاک توانائی کا عالمی دن ہمیں توانائی کے اس مرکزی کردار کی یاد دہانی کراتا ہے جو جامع ترقی، پائیدارتوانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے عالمی محرک کے لئے بہت اہم ہے،پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، اس لیے حکومت پاکستان نے آلودگی سے پاک توانائی کی جانب منتقلی کو موسمیاتی اور ترقیاتی ایجنڈے میں فوقیت دی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن کے تحت، جس کی عکاسی 2025 کے قومی سطح پر مقرر کردہ شراکت میں ہوتی ہے ، پاکستان نے 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔فضائی آلودگی ہمارے عوام کے لیے ایک تلخ اور بار بار سامنے آنے والی حقیقت بن چکی ہے۔ ہر سال شدید سموگ اور دھند کے باعث ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوتا ہے، پروازیں منسوخ کی جاتی ہیں، ریل کا نظام متاثر ہوتا ہے اور موٹرویز بند کر دی جاتی ہیں۔
تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور اسپتالوں میں سانس کی تکلیف میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ صاحبِ حیثیت طبقے میں ایئر پیوریفائر عام ہو چکے ہیں، مگر کروڑوں شہری اب بھی مضر فضائی حالات کے سامنے بے بس ہیں، جو فضائی آلودگی کے گہرے سماجی اور معاشی اثرات کو واضح کرتا ہے۔پاکستان نے اپنی قومی سطح پر مقرر کردہ شراکت اور قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی کے ذریعے، معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو تحفظ دینے کے لئے کم کاربن پر مشتمل تعمیر و ترقی اپنانے کا عزم کیا ہے۔
پاکستان کے توانائی مکس میں پہلے ہی 35 فیصدآلودگی سے پاک اور قابل تجدید توانائی شامل ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف 7 اور 13 کو آگے بڑھانے کے لیے ہم توانائی کے موثر استعمال اور پائیدار وسائل کے انتظام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس منتقلی کو پالیسی اصلاحات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں جدت، قابل تجدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ آلودگی سے پاک توانائی کی طرف منتقلی نہ صرف ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا بھی ایک جامع ذریعہ ہے.
سرمایہ کاری کی تحریک اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنا کر پاکستان کا مقصد توانائی کا ایک ایسا نظام تعمیر کرنا ہے جو تمام شہریوں کے لیے قابل اعتماد، قابل دسترس اور پائیدار ہو۔صدر زرداری نے کہا کہ ہم اپنے عزم کی تجدید کریں کہ نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کارفرما کم کاربن اور توانائی کے حوالے سے محفوظ پاکستان تعمیر کریں، بلکہ عالمی برادری کے ایک رکن ہونے کے طور پر ان ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی عالمی کوشش کا حصہ بھی بنیں جو کرہ ارض کی حفاظت کرے اور ان ٹیکنالوجیز سے گریز کریں جو اس کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔









