اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ آٹوموبائل کے پرزہ جات مقامی سطح پر تیار کرکے آٹو پارٹس کے سالانہ درآمدی بل میں 3 ارب ڈالر کی کمی لائی جا سکتی ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے آٹو پارٹس کی مقامی مینوفیکچرنگ کو بہتر بنانے کے بارے میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سٹیل، پلاسٹک اور الیکٹرانکس کی ذیلی صنعتوں کو استحکام ملے گا، ان کی سپلائی چین مضبوط ہو گی اور پاکستان سستی گاڑیوں اور پرزوں کا علاقائی برآمدی مرکز بنے گا جس سے افریقہ، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر پاکستان غیر ملکی درآمدات پر انحصار کم اور اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا فروغ ترقی اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو صنعتی معیشت کے طور پر شناخت دے سکتا ہے جس سے طویل مدتی خوشحالی کا حصول ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوری پالیسی اصلاحات سے اعتماد بحال ہو گا انہوں نے کہا کہ مقامی مینوفیکچررز کے لیے ٹیکس میں چھوٹ، خام مال کی درآمدات پر ٹیرف میں کمی اور ٹیکنالوجی اپ گریڈ کے لیے سبسڈی سے سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے۔ ریسرچ گرانٹس اور یونیورسٹیوں و صنعتوں کے درمیان شراکت داری سے جدت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
کم شرح سود پر قرضوں کی دستیابی بھی اہم ہے افتخار علی ملک، جو گارڈ گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین ہیں، نے کہا کہ ان کے گروپ نے انتھک کوششوں کے بعد پاکستان میں برانڈ قائم کیا اور بین الاقوامی معیار کے آٹوموبائل پارٹس تیار کیے جو قبل ازیں جاپان، جرمنی، امریکہ اور چین وغیرہ سے درآمد ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سروس، چن ون، میچلز اور گارڈ وغیرہ جیسے مقامی برانڈز قائم کرنے کی ضرورت ہے جن سے عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرانے اور زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=577872