لاہور۔6فروری (اے پی پی):آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ2026 کے گروپ ڈی کو اس لحاظ سے منفرد حیثیت حاصل ہے کہ اس میں شامل کوئی بھی ٹیم ماضی میں یہ ٹائٹل نہیں جیت سکی، تاہم معیار کے اعتبار سے یہ گروپ کسی طور کمزور نہیں، جہاں جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی حالیہ فائنلسٹ ٹیمیں اور2024 کی سیمی فائنلسٹ افغانستان بھی شامل ہیں۔اس گروپ کے میچز چنائے احمد …
آ ئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ،گروپ ڈی میں شامل ٹیمیں کوئی ورلڈ کپ نہ جیت سکیں

مزید خبریں
لاہور۔6فروری (اے پی پی):آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ2026 کے گروپ ڈی کو اس لحاظ سے منفرد حیثیت حاصل ہے کہ اس میں شامل کوئی بھی ٹیم ماضی میں یہ ٹائٹل نہیں جیت سکی، تاہم معیار کے اعتبار سے یہ گروپ کسی طور کمزور نہیں، جہاں جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی حالیہ فائنلسٹ ٹیمیں اور2024 کی سیمی فائنلسٹ افغانستان بھی شامل ہیں۔اس گروپ کے میچز چنائے احمد آباد اور دہلی میں کھیلے جائیں گے۔ان کے ساتھ کینیڈا،جو دو سال قبل اپنے ڈیبیو کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں، اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں جو تیسری مرتبہ اس ایونٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔
افغانستان تجربے سے بھرپور سکواڈ کے ساتھ بھارت پہنچ رہا ہے اور2024 میں سیمی فائنل تک رسائی کے بعد ان کے عزائم خاصے بلند ہیں۔راشد خان کی قیادت میں افغانستان نے حالیہ ٹی ٹونٹی سیریز میں ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں۔دو سال قبل رحمان اللہ گرباز ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر تھے جبکہ فضل الحق فاروقی نے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔برصغیر کی کنڈیشنز میں افغانستان کی سپن قوت نمایاں ہو سکتی ہے،جہاں راشد خان اور مجیب الرحمن کے ساتھ نور احمد اور تجربہ کار محمد نبی بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کینیڈا دو سال بعد ایک بار پھر عالمی سٹیج پر موجود ہے اور یہ ان کی دسویں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت ہوگی۔ 2024 میں انہوں نے آئرلینڈ کے خلاف فتح سے کھاتہ کھولا تھا مگر امریکا اور پاکستان کے خلاف شکست کے بعد پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئے تھے۔اس بار انہوں نے امیریکاز ریجنل فائنل میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تمام 6 میچ جیت کر کوالیفائی کیا۔دلپریت باجوہ اس دوران نمایاں کھلاڑی رہے اور اب کپتانی کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں جبکہ سابق کپتان نکولس کرٹن بھی سکواڈ کا حصہ ہیں۔
نوجوان یوراج سمرا تیز رفتار اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اوپننگ میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ مسلسل دوسری ورلڈ کپ میں سخت گروپ میں شامل ہے اور2024 جیسی ناکامی سے بچنے کی کوشش کرے گا،جب انہیں ویسٹ انڈیز اور افغانستان کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس بار بھی وہ اپنی مہم کا آغاز افغانستان کے خلاف کریں گے۔ بلیک کیپس نے کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کیلئے حالیہ دورہ بھارت کیا،جہاں ون ڈے سیریز جیتی مگر ٹی ٹونٹی سیریز4-1 سے ہار گئے۔
مچل سینٹنر کپتان کی حیثیت سے بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں کلیدی ہوں گے جبکہ سپن ڈیپارٹمنٹ میں ایش سوڈھی بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ تیز گیند بازوں کی قیادت ڈیبیو کرنے والے جیکب ڈفی کریں گے اور گلین فلپس اپنی شاندار فیلڈنگ سے میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جنوبی افریقہ2024 کے فائنل میں بھارت کے خلاف دل توڑ دینے والی شکست کے بعد اس ٹورنامنٹ میں بدلہ لینے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔
جسپریت بمراہ کے ایک شاندار اسپیل نے اس فائنل میں پروٹیز کے خواب توڑ دیئے تھے،تاہم اس کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت کر جنوبی افریقہ نے اپنی صلاحیت ثابت کی۔ایڈن مارکرم کی قیادت میں کوئنٹن ڈی کاک،دیوالڈ بریوس، ریان رِکلٹن اور ڈیوڈ ملر پر مشتمل بیٹنگ لائن اپ کسی بھی بولنگ اٹیک کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
بولنگ میں کیشو مہاراج واحد سپیشلسٹ سپنر ہو سکتے ہیں جبکہ کگیسو ربادا، لنگی نگیڈی اور اینرک نورکیا کی رفتار بڑا ہتھیار ثابت ہوگی۔متحدہ عرب امارات کی ٹیم بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور حالیہ عرصے میں فل ممبر ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا چکی ہے۔تیسری مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والی یو اے ای اپنی واحد سابقہ فتح،جو2022 میں نمیبیا کے خلاف حاصل کی تھی،میں اضافہ کرنے کی خواہاں ہے۔
اس میچ میں محمد وسیم نے نصف سنچری سکور کی تھی اور اس بار بھی ان پر ٹیم کی بیٹنگ کا بڑا دار و مدار ہوگا۔بنگلہ دیش کے خلاف حیران کن سیریز جیت میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا تھا جبکہ حیدر علی بولنگ میں متاثر کن رہے۔جنید صدیق2022 کے سکواڈ سے باقی رہنے والے چند کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں اور ٹیم کو زیادہ تجربہ کار حریفوں کے خلاف اپنی کمی پر قابو پانا ہوگا۔








