"وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کراچی پورٹ سے نکلنے والی گاڑیوں پر ایکسل لوڈ کی مقررہ حد پر سخت عملدرآمد، اوور لوڈنگ پر بھاری جرمانوں اور ایکسل لوڈ مینجمنٹ کے شفاف نظام کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں، جبکہ سیکرٹری مواصلات کی سربراہی میں ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا۔”
وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس، اوور لوڈنگ کی روک تھام اور قومی شاہراہوں کو نقصان سے بچانے کے لیے جامع حکمت عملی طے کی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان نے کراچی پورٹ سے نکلنے والی گاڑیوں پر ایکسل لوڈ کی حد پر سخت عملدرآمد، اوور لوڈنگ پر بھاری جرمانوں، ایکسل لوڈ مینجمنٹ کے شفاف نظام اور سیکرٹری مواصلات کی سربراہی میں ورکنگ گروپ قائم کرنے کے اہم فیصلے کیے ہیں۔
یہ فیصلے ان کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیے گئے جس میں اوور لوڈنگ کی روک تھام اور قومی شاہراہوں کو نقصان سے بچانے کے لیے جامع حکمت عملی طے کی گئی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مواصلات کو ایکسل لوڈ مینجمنٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی جی موٹروے پولیس نے بتایا کہ موٹرویز پر قوانین کا نفاذ قدرے بہتر ہے تاہم قومی شاہراہوں (ہائی ویز) پر اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر کو اوور لوڈنگ کے باعث شاہراہوں کو پہنچنے والے شدید نقصانات سے بھی آگاہ کیا گیا۔عبد العلیم خان نے موٹروے پولیس، ٹریفک پولیس اور این ایچ اے کو وے سٹیشنزپر سخت نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بھاری جرمانوں سے ہی ٹرک مالکان کو خلاف ورزی سے روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قوانین میں موجود خامیوں اور خلا کو فوری دور کرنے پر زور دیا اور کہا کہ صوبائی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں سیکرٹری مواصلات، ڈی جی ایف ڈبلیو او ، ڈی جی این ایل سی ، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس اور صوبائی فریقین نے شرکت کی اور ایکسل لوڈ مینجمنٹ پر موثر عملدرآمد کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔








