اجتماعی طور پر قیمتیں مقرر کرنا مسابقتی قانون کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسابقتی اداروں کی جانب سے اجتماعی طور پر قیمتیں مقرر کرنا، خواہ قیمتوں میں کمی ہی کیوں نہ کی گئی ہو، مسابقتی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہر کاروباری ادارے کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر مقرر کرنا ہوں گی۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی اپیل پر فیصلہ …

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسابقتی اداروں کی جانب سے اجتماعی طور پر قیمتیں مقرر کرنا، خواہ قیمتوں میں کمی ہی کیوں نہ کی گئی ہو، مسابقتی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہر کاروباری ادارے کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر مقرر کرنا ہوں گی۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی اپیل پر فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی درخواست پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں کم کرنا بذاتِ خود مسابقت مخالف عمل نہیں تاہم مختلف مینوفیکچررز کی ایسوسی ایشن کے ذریعے اجتماعی طور پر قیمت طے کرنا آزادانہ مسابقت کو متاثر کرتا ہے، اس لئے قانون کے تحت ممنوع ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مسابقتی قانون کے سیکشن 4 کے تحت کوئی ایسوسی ایشن ایسا فیصلہ نہیں کرسکتی جس کا مقصد یا اثر متعلقہ مارکیٹ میں مسابقت کو روکنا، محدود کرنا یا کم کرنا ہو۔ قیمتوں کا اجتماعی تعین اسی زمرے میں آتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صارفین کے مفاد میں قیمتیں کم کرنے کا مقصد بھی ایسوسی ایشن کو اجتماعی طور پر قیمت مقرر کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ ہر کاروباری ادارے کو اپنی قیمت اپنی تجارتی پالیسی اور حالات کے مطابق آزادانہ طور پر طے کرنا ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت کو قیمتوں میں کمی کے لئے براہ راست صنعت کی ایسوسی ایشن سے رابطہ کرنے کے بجائے مسابقتی کمیشن سے رجوع کرنا چاہئے تھا۔ حکومت کا ایسوسی ایشن سے براہ راست رابطہ مسابقتی کمیشن کی انتظامی اور فعال خودمختاری کو متاثر کرنے کا باعث بنا۔فیصلے میں کہا گیا کہ مسابقتی کمیشن کا کردار صرف خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کرنا نہیں بلکہ مسابقتی ماحول کو فروغ دینا، آگاہی پیدا کرنا، مشاورت فراہم کرنا اور مسابقت مخالف طرزِ عمل کی روک تھام بھی ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ معاملے میں ایسوسی ایشن کا اقدام خفیہ ملی بھگت یا پوشیدہ کارٹیل کا نتیجہ نہیں تھا، قیمتوں میں کمی کی بات بھی وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی تھی، اس لئے 5 کروڑ روپے کا جرمانہ حالات کے مطابق زیادہ ہے۔عدالت نے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مسابقتی کمیشن اور اپیلٹ ٹربیونل کی جانب سے خلاف ورزی کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم 5 کروڑ روپے جرمانہ کم کرکے 3 کروڑ روپے کردیا۔

مزید خبریں