26 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںاردو کے ممتاز شاعرو صداکاراور ریڈیو براڈکاسٹر زیڈ اے بخاری کی برسی...

اردو کے ممتاز شاعرو صداکاراور ریڈیو براڈکاسٹر زیڈ اے بخاری کی برسی منگل کو منائی گئی

- Advertisement -

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):اردو کے ممتاز شاعرو صداکاراور ریڈیو براڈکاسٹر زیڈ اے بخاری کی برسی منگل 12 اگست کو منائی گئی۔جنوبی ایشیا میں براڈ کاسٹنگ انڈسٹری کے بانی زیڈ اے بخاری کا پورا نام ذوالفقار علی بخاری تھا اور وہ 1904ء میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ان کو بچپن ہی سے اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے کا شوق تھا ۔

انہوں نے پہلی مرتبہ شملہ میں امتیاز علی تاج‘کے مشہور ڈرامے ’’انارکلی‘‘ میں سلیم کا کردار ادا کیا اور خوب داد حاصل کی ۔ 1936ء میں جب آل انڈیا ریڈیو کا قیام عمل میں آیا تو زیڈ اے بخاری ریڈیو سے منسلک ہوگئے اور ان کا یہ ساتھ زندگی بھر جاری رہا۔ 1938ء میں انہوں نے برطانیہ سے نشریات کی تربیت حاصل کی۔ زیڈ اے بخاری 1940ء میں جوائنٹ براڈ کاسٹنگ کونسل لندن سے منسلک ہو گئے۔

- Advertisement -

لندن سے واپسی پروہ بمبئی اور کلکتہ ریڈیو سٹیشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جبکہ قیام پاکستان کے بعد وہ ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے، نومبر 1967ء میں کراچی میں ٹیلی ویژن سٹیشن کے قیام کے بعد وہ پہلے جنرل منیجر مقرر ہوئے۔زیڈ اے بخاری ایک اعلیٰ ماہرنشریات ہی نہیں بلکہ ایک بلند پایہ صداکار بھی تھے۔زیڈ اے بخاری نہ صرف شعر کہتے تھے بلکہ موسیقی سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ ان کو فارسی‘ اردو‘ پنجابی‘ پشتو‘ بنگالی‘ برمی اور انگریزی زبان پر مکمل عبور تھا ۔

زیڈ اے بخاری نے اپنے حالاتِ زندگی ’’سرگزشت‘‘ کے نام سے رقم کیے جو اردو کے نثری ادب کا گراں قدر سرمایہ ہے۔ انہوں نے مختلف راگوں اور راگنیوں پر ایک کتاب ’راگ دریا‘ بھی یادگار چھوڑی ۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی پطرس بخاری کی یاد میں ایک کتاب ’بھائی بھائی‘ کے نام سے لکھنی شروع کی تھی مگر یہ کتاب مکمل نہ ہوسکی۔

ان کا مجموعہ کلام ’’میں نے جو کچھ بھی کہا‘‘ کے نام سے شائو ہوچکا ہے۔ زیڈ اے بخاری 12جولائی 1975 کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی حلقوں اور براڈ کاسٹرز کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں